تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 114
خطبه جمعه فرمودہ 16 اگست 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اجتماعی دعائیں نہیں ہوں گی۔مسجد مبارک میں تو میں نے مغرب کی نماز کے بعد ہدایت کر دی تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات وہیں تک محدود رہی۔دراصل اس قسم کی اجتماعی دعا سے قبل حالات پر روشنی ڈالنی چاہئے ، حالات کی نزاکت سے احباب جماعت کو آگاہ کرنا چاہئے۔اور وہ بشارتیں بھی بتانی چاہئیں، جو جماعت احمدیہ کو غلبہ اسلام کے لئے دی گئی ہیں۔اس کے بعد اجتماعی دعا ہونی چاہئے۔سلام پھیر کر یہ کہہ دینا کہ آؤ دعا کر لیں، یہ تو خشک دعا ہے، اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔بہتوں کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ دعا کس رنگ میں کرنی چاہئے۔یہ سمجھ بوجھ رکھنے والوں کا کام ہے کہ وہ دوسروں کو بتا ئیں کہ اس طرح دعا کرنی چاہئے۔لیکن چونکہ دوستوں کو اس کا طریق نہیں بتایا گیا، اس لئے میں اسے بند کرتا ہوں۔باقی رہا، دعا کرنا ، وہ تو ظاہر ہے کہ ہم اب بھی کریں گے۔کیونکہ دعا کے بغیر ہماری زندگی نہیں۔ہم دعائیں کریں گے اور بہت دُعائیں کریں گے۔لیکن مغرب اور فجر کی نماز کے بعد اجتماعی دعا کی جو ہدایت کی گئی تھی اور اس کے مطابق جو دعا ہوتی رہی ہے، وہ میرے نزدیک خشک ہو چکی ہے، اس لئے میں اسے بند کرتا ہوں۔لیکن چونکہ دعا کے بغیر ایک احمدی کو زندگی میں کوئی لطف ہی نہیں ہے، اس لئے احباب جماعت کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔انفرادی طور پر دعائیں کریں غلبہ اسلام کے لئے ، انفرادی طور پر دعائیں کریں ملک کی بہبود کے لئے۔اس وقت ہمارے ملک کو بھی ہماری دعاؤں کی بے حد ضرورت ہے۔احباب اس طرح دعائیں کریں کہ جب ان کی انفرادی دعائیں اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچیں تو ساری اکٹھی ہو کر اجتماعی دعا بن جائیں۔اور خدا کرے کہ وہ قبول ہوں۔اور اس کے نتیجہ میں ہماری زندگی کا مقصد اور ہماری جماعت کی غرض پوری ہو۔یعنی اس زمانہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوں، جو اس زمانہ کے متعلق کی گئی تھیں۔اور وہ لوگ جنہوں نے اسلام کو پس پشت ڈال رکھا ہے، جو اسلام کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کر رہے اور جو اپنے خدا کو نہیں پہچانتے اور جو اپنے خدا سے دور ہو چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں اور اس کی محبت سے لا پرواہ ہو گئے ہیں، ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی نعمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی فیوض سے حصہ عطا فرمائے گا۔مثلاً کمیونسٹ ممالک ہیں، انہوں نے نعرہ یہ لگایا کہ وہ زمین سے خدا تعالیٰ کے نام کو اور آسمان سے خدا تعالیٰ کے وجود کو مٹادیں گے۔لیکن جس وجود کو آسمانوں سے مٹانے کا وہ نعرہ لگارہے ہیں، آسمانوں سے اسی وجود نے ہمیں بتایا ہے کہ ریت کے ذروں کی طرح وہاں مسلمان نظر آئیں گے۔114