تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 110
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 31 مئی 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم دخل نہیں ہے۔ہم علی وجہ البصیرت اپنی زبان سے بھی ، اپنے عمل سے بھی ، اپنے جذبات سے بھی ، ہم اپنی روح کے ہر پہلو سے دنیا میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس خدا کے کلام میں غیر اللہ ک کوئی دخل نہیں ہے۔اور یہ کلام ہم میں سے ہر ایک کے کان میں بڑے پیار کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے۔انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ آخر کار تم ہی غالب رہو گے۔جو خدا تعالیٰ سے دور ہونے والے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتے ، جو غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں، وہ نامجھیوں کے نتیجہ میں غلط اعلانات کرتے ہیں۔ان کی باتیں باطل ہیں اور وہ مٹ جائیں گی۔آج جو ہمارا دشمن ہے، وہ یہ حقیقت یا در کھے کہ کل وہ ہمارا دوست ہوگا۔وہ اپنے کئے پر پچھتارہا ہوگا۔وہ ہم سے مصافحہ کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوگا کہ یہ وہ قوم ہے، جس کو پہچانا نہیں گیا۔یہ وہ جماعت ہے، جس کو دھتکارا گیا اور کمزور سمجھا گیا اور دکھ دینے کی کوششیں کی گئیں اور ایذاء پہنچائی گئی۔اور اللہ تعالیٰ کے فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ یہی جماعت صداقت پر قائم ایک جماعت ہے۔خدا تمہیں کہتا ہے:۔أَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ کہ بحیثیت جماعت غالب تم نے ہی آنا ہے۔اگر کسی جماعت کو یہ یقین ہو ، اگر کسی جماعت کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ خدا تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ غالب انہوں نے ہی آنا ہے، اگر وہ شرائط ایمان اور شرائط اسلام پوری کرنے والے ہوں، پھر ان کو کیا ڈر اور ان کو خدا تعالیٰ کے حضور قربانیاں دینے میں کیا جھجک؟ افراد تو قربانیاں دیا ہی کرتے ہیں۔ابتدائے اسلام میں بہتوں نے ایسی قربانیاں دیں۔جب ابھی یہ جھگڑے اور لڑائیاں مخالفین اسلام کی طرف سے شروع نہیں کی گئی تھیں۔مکی زندگی میں جو ظاہری حالات کے لحاظ سے کمزور زندگی تھی، ( ور نہ مومن کی روحانی زندگی تو کمزور نہیں ہوتی۔کیونکہ ساری شیطانی طاقتوں کا وہ مقابلہ کر رہی ہوتی ہے۔بہر حال ظاہری لحاظ سے وہ کمزور تھے۔حالت یہ تھی کہ ان کی اور ہماری بزرگ مستورات میں سے بعض کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ان کو ہلاک کر دیا گیا۔اور اس وقت کے مسلمانوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنی خاتون کی عزت کی حفاظت کر سکتے۔اور خدا نے کہا تھا کہ ہماری اس مخلصہ کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری تم پر اتنی نہیں، جتنی تم پر اس بات کی ذمہ داری ہے کہ تم ہمارا حکم سنو اور بجالاؤ۔اور تمہیں حکم یہ ہے کہ صبر اور دعا کے ساتھ ان آفات کا ، ان تکالیف کا ، دشمن کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرو۔گالی کا جواب گالی سے دے کر نہیں ، پتھر کے مقابلہ میں پتھر پھینک کر نہیں بلکہ پتھر کھاؤ اور صبر کرو اور دعا کرو۔اپنے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جو پتھراؤ کرتے ہیں۔110