تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 93

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 02 مئی 1974ء فیصد زیادہ قربانیوں کی توفیق دی۔تو اس اصول کے مطابق جو میں نے ابھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ جتنا بوجھ ڈالتا ہے، اس کے مطابق توفیق اور طاقت بھی عطا کرتا ہے، ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو قربانیاں ہم نے دی ہیں اور جو بوجھ ہم پر ڈالا گیا ہے، جس کے نتیجہ میں عام مالی قربانی کے علاوہ ہم نے قربانی دینی اور ایثار کا اظہار کرنا ہے اور جو ہم نے جدوجہد کرنی ہے، وہ 70ء کے مقابلہ میں اس زمانہ میں، جس میں ہم داخل ہو چکے ہیں، بیس گنا زیادہ ہے۔یعنی اس میں 20 سو فیصدی اضافہ ہوا ہے۔عمر کے لحاظ سے اس کا اثر ہماری جماعت پر دو قسم کا پڑتا ہے۔ایک وہ لوگ ہیں، جو بلوغت کو پہنچنے کے بعد جماعت احمدیہ کے ایک عظیم انقلابی جہاد میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کو پہلے سے ہیں گنا زیادہ قربانی کے ساتھ اور جذبہ کے ساتھ اور عزم کے ساتھ اس جہاد میں حصہ لینا پڑے گا۔یہ آثار ہیں، کیونکہ اتنی طاقت ہمیں مل گئی۔جہاں ہم بوجھ دیکھتے ہیں، اس کے مقابلہ میں ہم خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ امید رکھتے ہیں کہ جماعت کو اتنی زیادہ توفیق مل جائے گی۔اور جب ہم تو فیق دیکھتے ہیں تو جو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دیتا ہے اور ہماری نظر کے سامنے آتی ہے، اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسی نسبت کے ساتھ ہم پر زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا۔اور وہ منصوبہ ہے، اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا۔وہ منصوبہ یہ ہے، تمام ملکوں اور ان میں بسنے والے انسانوں کے دل جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دینے کا۔یہ اتناز بر دست منصوبہ ہے کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں ، آپ کے کانوں میں بار بار یہ بات ڈالنا چاہتا ہوں کہ آدم کی پیدائش کے بعد سے اتنا بڑا منصوبہ کبھی نہیں بنایا گیا۔آدم سے لے کر آج تک اتنی زبر دست جنگ ( روحانی جنگ، مادی ہتھیاروں سے نہیں ) شیطانی قوتوں کے خلاف نہیں لڑی گئی ، جتنی اس زمانہ میں، جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے، لڑی جانے والی ہے۔ہمارا سپہ سالار، ہمارا سپریم کمانڈر، ہمارا ہادی، ہمیں راہ راست دکھانے والا اور اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اس پر قائم رکھنے والا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔باقی جس طرح سپریم کمانڈر کے ماتحت ایک زمانہ میں مختلف محاذوں پر مختلف جرنیل لڑ رہے ہوتے ہیں۔مثلاً ہمارے ہاں اس وقت پاکستان کی بری فوج کو، جود نیوی فوج ہے، پانچ حصوں میں تقسیم کر کے پانچ کورکمانڈرز مقرر کئے گئے ہیں۔اور اس کے علاوہ فضائیہ کا ایک انچارج ہے اور بحریہ کا ایک انچارج ہے۔تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو کمانڈر یا سپہ سالا راعظم ہے، اس کے اختیارات میں کوئی فرق پڑ گیا یا اس کی کمان اس سے چھین لی گئی۔93