تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 611 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 611

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء کوئی دلچسپی ہے۔جیسا کہ ان آیات میں بھی جو میں نے تلاوت کی ہیں، بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے۔تو بات سنتے ہیں اور ہمیں سنانی چاہئے۔تو جس وقت مذاہب کی کشتی ہو، اس وقت غالب آنے والے مذہب کے پاس اس قدر ز بر دست دلائل ہونے چاہئیں کہ ان دلائل کے سامنے دوسرے مذاہب ٹھہر نہ سکیں۔یہ زبردست دلائل تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام تھا، لانا اور آپ لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب اور سب سے بڑا بد مذہب یعنی دہریت جو ہے، اس کے خلاف بڑے بڑے دلائل دے دیئے ہیں۔لیکن محض دلائل دینا بھی غالب آنے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتے۔دنیا کی تاریخ سے ہمیں پتہ لگتا ہے، اس کی تفصیل میں ہمیں جانے کی ضرورت نہیں۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ دوسری چیز جو وحدت اقوامی کے لئے ضروری تھی، ایسی فضا تھی، جس میں مذاہب کی گشتی امن کی فضا میں ممکن ہو۔اور جو دلیل اور حجت میں زبردست اور طاقتور ہو، اس کی جیت ہو۔اور وہ دلائل تھے، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیئے۔اور تیسری چیز جو اس وحدت اقوام کے لئے ضروری تھی ، وہ یہ تھی کہ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے اس گروہ کو آسمانی نشانات اور تائیدات سے نوازا گیا، جو آپ کی زندگی میں اور آپ کے بعد دو، تین نسلوں میں پیدا ہوں ، اس طرح ایک قوم صحابہ سے ملتی جلتی پیدا کی جائے ، جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آسمانی نشانات اور تائیدات کی وارث بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا وجود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اس طرح فانی ہے کہ علیحدہ کوئی چیز ہمیں نظر نہیں آتی۔اس وجود کی جھلک، اس وجود کا حسن، اس وجود کا احسان جو ہے، وہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود میں نظر آتا ہے۔اور ان میں کوئی فرق نہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی کہا کہ دیکھنا ! فرق نہ کرنا ورنہ پاؤں پھسل جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف خود بڑی کثرت سے بے حد و حساب آسمانی نشانات دنیا کو دکھائے۔بلکہ آپ نے دنیا میں یہ اعلان بھی کیا کہ میرے بچے اور کامل تبعین بھی آسمانی نشانوں کے وراث بنیں گے۔یہاں تک فرمایا کہ میرے کامل متبعین کو اللہ تعالیٰ اس قدر برکت دے گا کہ اگر وہ کسی چیز کو چھوئیں گے تو وہ چیز بابرکت ہو جائے گی۔قبولیت دعا کا نشان ہے، یہ ساری ہماری جماعت۔جو شخلصین کا حصہ ہے، (منافقین اور کمزوروں کو نکال کر ) ان کو اللہ تعالیٰ یہ نشان دکھاتا ہے۔ان کے وجود میں برکت رکھی ہے، ان کے وجود میں جاذبیت رکھی ہے، اثر رکھا ہے۔611