تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 966
ارشادات فرموده 31 مارچ 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم چنانچہ جب سیرالیون کے دوستوں نے مجھے لکھا کہ ہمارے سکول حکومت نے اپنی ملکیت میں لے لیے ہیں تو میں نے کہا کوئی بات نہیں تم اپنا کام کئے جاؤ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔جب انہوں نے ہمارے سکول قومی ملکیت میں لے لیے تو پہلے تو ہمیں کہنا پڑتا تھا کہ مثلاً فلاں جگہ سکول کی عمارت میں ایک نئے wing( ونگ) کی ضرورت پڑگئی ہے۔نصف ہم خرچ کرتے ہیں اور نصف حکومت دے تا کہ وہ حصہ عمارت بھی مکمل ہو جائے۔مگر اب قومی ملکیت میں لینے کا مطلب یہ نکلا کہ سارا خرچہ حکومت کرے گی۔پالیسی ہماری چلے گی۔پہلے ہم کہتے تھے کہ اپریس منگوانے کے لیے امپورٹ لائسنس دو۔اس سلسلہ میں کئی افراد کی خوشامد میں کرنی پڑتی تھیں۔کئی ایک کو سمجھانا پڑتا تھا کہ ہم اس غرض کے لیے منگوا رہے ہیں وغیرہ۔چنانچہ کئی مہینے نخرے دکھانے کے بعد حکومت اجازت دیتی تھی اور امپورٹ لائسنس ملتا تھا۔اب وہ کہتے ہیں کہ سکولوں کا سامان ہم منگوا کر دیں گے اور پیسے بھی ان کے ہوں گے۔ہمیں کیا نقصان ہوا۔ہمارے سکولوں کی شہرت تو اب بھی قائم ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمارے سکول احمد یہ کہلاتے ہیں۔سکول کا لفظ نہیں بولتے یعنی سیرالیون کا عام آدمی ہمارے سکولوں کو احمدیہ کے لفظ سے پکارتا ہے مثلا بیٹا کہتا ہے باپ سے کہ میں نے احمد یہ میں داخل ہونا۔اس سے مراد احمد یہ سکول میں داخل ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔چار ہائر سکینڈری سکول اگر چہ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے۔لیکن سٹاف کا سارا خرچ حکومت برداشت کر رہی ہے۔اور سارے اپریٹس وغیرہ کا جو خرچ یا دیگر سامان ہے یا عمارت کا کوئی نیاونگ بنانا ہے،اس کا سارا خرچ حکومت اٹھاتی ہے۔فری ٹاؤن میں ہمارا ہائرسکینڈری سکول (انٹر میڈیٹ کا لج ) بہت اچھا کام کر رہا ہے۔حکومت نے ایک وقت میں فیصلہ کیا تھا کہ کسی ہائر سکینڈری سکول میں چار سو سے زیادہ طالب علم نہیں ہوں گے۔لیکن پبلک نے شور مچادیا کہ تمہارا یہ قانون احمدیہ پر نہیں چلے گا۔یعنی عوام نے یہ مطالبہ کیا کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے چنانچہ حکومت عوام کے مطالبہ کے سامنے مجبور ہو گئی یہ کہنے پر کہ ہمارے اس قانون سے ریہ یعنی چاروں احمد یہ سکول مستثنی ہوں گے۔یہ تو ان سکولوں کا حال ہے جو پہلے سے کام کر رہے ہیں۔اب تو نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے ماتحت وہاں اور بھی سکول کھل رہے ہیں۔ایک تو حال ہی میں کھل چکا ہے۔آپ نے اس کے متعلق غالبا الفضل میں پڑھا ہوگا۔اگر ابھی تک نہیں چھپا تو آپ سن لیں کہ وہاں سکول کے اجراء پر جو تقریب منعقد ہوئی ، اس میں وہاں کے وزیر نے شمولیت کی اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔966