تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 967
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ 31 مارچ 1973ء غرض جہاں تک ان سکولوں پر خرچ کا تعلق ہے ، حکومت کی تحویل میں چلے جانے کے بعد حکومت کرتی ہے۔لیکن جہاں تک نظم و نسق چلانے اور ماحول کو کنٹرول کرنے کا کام ہے ، وہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔گویا خرچ سارا حکومت کر رہی ہے اور کام سارا ہم کر رہے ہیں۔چنانچہ جب 70ء میں میں مغربی افریقہ کے دورے پر گیا تو اس وقت جو کلاس پاس ہو کر نکلی ، اس ساری کی ساری کلاس نے بیعت کی اور سندات لے کر چلے گئے۔اب بھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس سال فارغ ہونے والی کلاس نے بھی بیعت کر لی ہے۔گویا سارا خرچ حکومت کر رہی ہے مگر وہاں اخلاقی فضاء پیدا کرنا اسلامی اخلاقیات سے روشناس کرانا، اخلاقی اسباق دینا ، قرآن کریم سکھانا، صحیح اسلام پیش کرنا اس میں ہم آزاد ہیں۔ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے تو پھر کیا نقصان ہوا۔ہمیں تو فائدہ پہنچا۔خرچ حکومت کے ذمہ اور کام ہمارا ہو رہا ہے۔تحریک جدید کے کام اور ذرائع ہر دو میں 1944ء کے بعد ایک انقلاب عظیم جو بپا ہونا شروع ہوا تھا۔اس نے اب پوری وسعتوں کے ساتھ صحیح شکل اختیار کر لی ہے۔1944ء تک تحریک جدید کے سارے کاموں کا بوجھ جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان پر تھا۔بیرون ہندوستان آمد کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔نہ چندے کی شکل میں اور نہ کسی اور شکل میں۔میں نے اس سلسلہ میں شوری یا جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی دوستوں کے سامنے بعض باتیں کی تھیں اور بتایا تھا کہ 1944ء کے بعد آہستہ آہستہ بیرون پاکستان کی جماعتیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہونی شروع ہوئیں۔اور وہ غرض جس کے لیے تحریک جدید کو قائم کیا گیا تھا، گو وہ اپنے کمال کو تو ابھی نہیں پہنچ سکی۔شائد ایک صدی اور لگ جائے۔لیکن ایک انقلاب کی نمایاں شکل ہمیں نظر آنے لگ گئی۔ایک وہ زمانہ تھا جب بیرون پاکستان تبلیغ کا سارے کا سارا بوجھ جماعت احمد یہ ہندوستان اٹھا رہی تھی۔اور آج 27 ،28 سال کے بعد تحریک جدید کے جس بجٹ کو آپ نے پاس کیا ہے، اس میں 16 لاکھ روپیہ کا بوجھ پاکستان کی جماعتوں پر ہے۔اور اس کے مقابلہ میں 96لاکھ روپے کا بوجھ بیرون پاکستان کی جماعتوں پر ہے۔گویا مالی قربانی کے لحاظ سے آپ اور ان میں ایک اور چھ کی نسبت ہے۔سولہ لاکھ کے مقابلہ میں قریباً ایک کروڑ روپیہ بیرون پاکستان کی جماعتوں کے چندے یا دوسرے ذرائع آمد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں۔پھر آپ اس امر کو بھی مدنظر رکھیں کہ آپ نے بیرون پاکستان کا بجٹ بقدر 96 لاکھ روپے اپنے بھائیوں کی غیر حاضری میں پاس کیا ہے۔اور فنی اعتبار سے 96 لاکھ روپے کا بوجھ اپنے ان بھائیوں کے کندھوں پر ڈالا ہے، جن کی آپ نے رائے نہیں لی۔اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ اپنے حصے کا بجٹ بقدر 96 967