تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 81 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 81

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1966 ء بعض غلط قسم کی نقلوں کی وجہ سے ہماری عورتیں بھی نوکری کی طرف ضرورت سے زیادہ متوجہ اور مائل ہورہی ہیں۔میں اس بات کے متعلق اس وقت کچھ نہیں کہنا چاہتا۔میں اس وقت صرف یہ بتارہا ہوں کہ مرد یا عورت جب کمانے لگ جاتی ہے تو اس پر اپنی آمد کا سولہواں حصہ (اگر اس نے وصیت نہیں کی ) یا کم از کم دسواں حصہ (اگر اس نے وصیت کی ہے ) بطور چندہ دینا لازمی ہے۔جس طرح نماز اور دوسرے فرائض ہیں، اسی طرح ایک احمدی پر مالی قربانی بھی بطور فرض کے عائد ہے۔اس پر فرض ہے کہ وہ اگر موصی یا موصیہ نہیں تو اپنی آمد کا سولہواں حصہ اور اگر موصی یا موصیہ ہے تو اپنی آمد کا کم از کم دسواں اور زیادہ سے زیادہ تیسرا حصہ اشاعت اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جماعت کے بیت المال میں جمع کرائے۔پھر نظام کے مطابق ایک مجلس شوری کے موقع پر جماعت کے نمائندے خرچ کرنے کے متعلق کچھ سفارشات کرتے ہیں اور ان نمائندوں کے فیصلوں کے مطابق وہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔چونکہ اسلام کا یہ بنیادی حکم ہے کہ فرائض سے کچھ زیادہ خرچ کرو تاتم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکو، اس لئے ہماری جماعت میں حضرت مصلح موعودؓ نے علاوہ فرض چندوں کے بہت سے نفلی چندوں کی بھی تحریک کی ہوئی ہے۔ان میں سے ایک چندہ یعنی چندہ تحریک جدید گو نفلی ہے لیکن ضرورت کے مطابق شاید وہ فرض کے قریب قریب پہنچا ہوا ہے۔اس کی مثال سنتوں کی سی ہے۔جو ہیں تو نوافل لیکن وہ فضل کی نسبت فرض کے زیادہ قریب ہمیں نظر آتی ہیں۔کیونکہ انہیں ادا کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید فرمائی ہوئی ہے۔پھر چندہ تحریک جدید کے علاوہ چندہ وقف جدید ہے۔ان کے علاوہ آپ بہنوں کو ان چندوں میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے، جو خاص طور پر لجنہ اماء اللہ کی تحریک پر جمع کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ مختلف مساجد کے بنانے میں آپ بہنوں نے قابل رشک حصہ لیا ہے۔قابل رشک اس معنی میں کہ ہم جو مرد ہیں، ہمارے دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس ثواب سے کیوں محروم رہے کہ فلاں جگہ پر ایک مسجد بن رہی تھی ، جس کے میناروں سے خدائے واحد و یگانہ کا نام بلند ہونا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضل ترین اور ارفع نبوت کا اعلان ہونا تھا۔ہم نے اس کے بنانے میں حصہ نہ لیا۔ہم ثواب سے محروم رہے اور سارا ثواب آپ نے اپنی جھولیوں میں سمیٹ لیا۔بہر حال اس قسم کے قابل رشک چندے بھی آپ بہنیں ادا کرتی ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک جہت ایسی ہے، جس کی طرف آپ نے ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی۔اور وہ یہ ہے کہ جس طرح سات سال کی عمر میں بچوں کو (جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ) نفلی نماز اس لئے پڑھائی جاتی ہے یا پڑھائی جانی 81