تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 955
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الفطر فرموده 28 اکتوبر 73 پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔خدا تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا۔قریب تھا کہ تم کسی مہلک گھڑے میں جا پڑتے۔مگر اس کے باشفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اٹھالیا۔سو شکر کرو اور خوشی سے اچھلو، جو آج تمہاری تازگی کا دن آگیا۔خدا تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی، کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو۔جس میں موجود برکت کچھ بھی نہ ہو۔وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچاتا ہے۔کیا اندھیری رات کے بعد نئے چاند کے چڑھنے کی انتظار نہیں ہوتی ؟ کیا تم سطح کی رات کو، جو ظلمت کی آخری رات ہے، دیکھ کرحکم نہیں کرتے کہ کل نیا چاند نکلنے والا ہے۔افسوس کہ تم اس دنیا کے ظاہری قانون قدرت کو تو خوب سمجھتے ہو مگر اس روحانی قانون فطرت سے جو اسی کا ہم شکل ہے، بکلی بے خبر ہو“۔اب دیکھو آپ کا یہ ارشاد کہ (ازالہ اوہام حصہ اول صفحه 504) خدا تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔اور اسی طرح آپ کا یہ فقرہ کہ ” وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو، جس میں موجود برکت کچھ بھی نہ ہو۔قابل غور ہے۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ وہ برکت، جس سے امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔دوبارہ امت مسلمہ میں جماعت احمدیہ کو ملی۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ ایک ایسی قوم تیار ہوئی، جس نے اس بات کا عزم کر لیا کہ وہ اسلام کے باغ پر پھر تر و تازگی کے سامان اسی طرح پیدا کرے گی جس طرح پہلوں نے اس باغ کو اپنے خونوں سے بھینچ کر اس کی تازگی اور خوبصورتی کا سامان پیدا کیا تھا۔ہماری یہ عید دو قربانیوں کے زمانہ کے درمیان آتی ہے۔لیکن ایک مومن کے چہرے پر پہلی اور مقبول قربانیوں کے نتیجہ میں پژمردگی اور تھکن کے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو بسا 955