تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 949 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 949

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء کے پاس بیٹھ گیا اور دیکھا کہ باجرے کی روٹی ہے، جس میں گھی ملا ہوا ہے۔میں نے روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے اتنی لذت حاصل کی کہ کوئی حد نہیں۔لیکھن کی وجہ سے وہ چکنی ہوگئی تھی۔اس کے ساتھ سرخ مرچ تھی۔میں سرخ مرچ استعمال نہیں کرتا۔کیونکہ اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔میں نے روٹی کا صرف ایک ٹکڑا اٹھا لیا اور اس سے بڑی لذت حاصل کی۔میں نے تو صرف یہ علم حاصل کرنا تھا کہ ساری رات کام کرتے کرتے تھکا ہوا یہ زمیندار کیا کھا رہا ہے۔چنانچہ جب میں باجرے کی روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کھا کر اٹھا تو اس کی بیوی جو ایک طرف بیٹھی ہوئی تھی کہنے لگی اے وی تے لوجی“۔میں نے سمجھا اپنے خاوند کے پیار میں خاص طور پر کوئی بہت ہی اچھی چیز لائی ہے۔جس کے متعلق اس نے سمجھا ہے کہ اس میں مہمان کو بھی شریک کرنا چاہیے۔جب اس کے چھائے کو دیکھا تو اس میں گڑ کی ڈلیاں پڑی ہوئی تھیں۔اور یہ اس کے لئے ایک بہت بڑی چیز تھی۔اس نے سمجھا کہ مہمان بغیر گڑ کھائے جا رہا ہے ، اسے گڑ پیش کرنا ہیے۔لیکن اب یہ نوبت آ پہنچی ہے کہ گویا ہم کھانڈ کے بغیر زندہ رہ ہی نہیں سکتے۔خواہ ملک اقتصادی طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو جائے۔کھانڈ ضرور استعمال کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ساٹھ کروڑ روپے کی کھانڈ باہر سے درآمد کی گئی۔اس کی بجائے اور کئی مفید اور ضروری اشیاء مثلاً مشینری وغیرہ منگوائی جا سکتی تھی، جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا۔یا قرآن کریم کی اشاعت کے لئے پریس کی مشینری منگوانے کے لئے ہمیں زرمبادلہ کی ضرورت ہے۔اس کے لئے زرمبادلہ بچایا جا سکتا تھا۔یہ تو ایک کار ثواب ہے۔کھانڈ منگوا منگوا کر اور میٹھا گھول گھول کر پی لینے کا کیا فائدہ ہے۔صرف افریقہ ہی نہیں جہاں میٹھا کھایا ہی نہیں جاتا۔چین میں بھی بہت کم استعمال ہوتا ہے میرے خیال میں چین نے ایک چھٹانک چینی بھی باہر سے کبھی نہیں منگوائی ہوگی۔جس شکل میں وہ میٹھا بناتے ہیں، اسی میں استعمال کر لیتے ہیں۔مثلا گڑ ہے وہ استعمال کر لیا شکر ہے تو وہ استعمال کر لی یا اگر کہیں کھانڈ بنانے کے کارخانے ہیں تو کھانڈ کی شکل میں استعمال کر لیتے ہیں۔گویا ملکی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں۔باہر سے منگوانے پر پیسے ضائع نہیں کرتے۔یہ ساری چیزیں جو میں نے اس وقت آپ کو بتائی ہیں، ان میں سے بعض کا شاید آپ کو پتہ نہیں ہوگا اور اس طرح آپ کو نئے نئے علم حاصل ہو گئے۔اپنے ملک کے فائدہ کے لئے بہت ساری چیزیں سوچنی پڑتی ہیں۔مثلاً اگر کسی ملک کے ہیں فیصد لوگ کھڑے ہو جائیں اور مطالبہ کریں کہ کھانڈ باہر سے نہ منگوائی جائے تو اس سے اس ملک کی اقتصادی حالت بدل جائے۔اگر سارے افریقن بھائی کھانڈ کا 949