تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 950
خطبه جمعه فرموده 119اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم استعمال کئے بغیر طاقت ور اور ہم سے زیادہ قوت کے ساتھ محنت کر سکتے ہیں اور زندگی گزار سکتے ہیں، تو ہم اس کے بغیر زندہ کیوں نہیں رہ سکتے۔پس ایک تو میں نے یہ کہا ہے کہ بیرون پاکستان کے احباب وفود کی شکل میں جلسہ سالانہ پر آئیں۔زیادہ سے زیادہ وفود آنے چاہئیں۔اس سال ابتداء ہو جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اگلے دو تین سال میں اس کا پورا انتظام ہو جائیگا۔اور ہر ملک جلسہ میں شمولیت کے لئے اپنا وفد بھجوائے گا۔یہاں ان کے لئے رہائش کا انتظام کرنا ہے۔اکرام ضعیف کے حکم کے ماتحت ان کی عادتوں کے مطابق ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام کرنا ہے۔ان کے ساتھ ایسے آدمی رکھنے ہیں جو ان کو ساری چیزیں بتاتے رہیں۔پھر ان کے لئے ایسا انتظام کرنا ہے کہ جب وہ واپس جائیں تو ان کو ساری چیزیں بھولی ہوئی نہ ہوں۔بلکہ کچھ تصاویر کی شکل میں، کچھ حافظہ کی مدد سے ، وہ اپنی اپنی جماعت میں جلسہ سالانہ کی روداد بیان کریں۔اور بتائیں کہ انڈونیشیا کے وفد سے ملے تو اس نے ہمیں یہ باتیں بتائیں۔امریکہ کے وفد سے ملے تو اس نے ہمیں یہ باتیں بتا ئیں۔غرض یہ وفود اپنے اپنے ملک میں جا کر تقاریر کا ایک سلسلہ جاری کریں گے اور دوستوں کو بتائیں گے کہ جماعت احمد یہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔دیر کی بات ہے میں اس وقت کالج کا پرنسپل اور افسر جلسہ سالانہ بھی تھا۔ہمارے ایک افریقن دوست جلسہ سالانہ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔25 دسمبر کی شام کو وہ باہر ٹہل رہے تھے کہ اسی اثنا میں سیالکوٹ کی طرف سے ایک پیشل ٹرین آئی۔جس میں اتنی بھیڑ تھی کہ بعض لوگ دروازں کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے اور وہ سب نعرے لگارہے تھے۔ہمارے اس افریقن دوست نے جب یہ نظارہ دیکھا تو پوچھنے لگے کہ یہ سارے احمدی ہیں؟ انہیں بتایا گیا کہ ہاں یہ سارے ماشاء اللہ احمدی ہیں۔ابھی وہ وہیں کھڑے تھے کہ ایک اور سپیشل آگئی اور وہ بھی بھری ہوئی تھی اور جس میں سے دوست نعرے لگا رہے تھے۔انہوں نے جب دوبارہ یہ نظارہ دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔فرط جذبات سے کہنے لگے یہ بھی سارے احمدی ہیں اتنے زیادہ احمدی ہیں؟ اب ان کا اپنے ملک میں احمدیوں کا تصور اور تھا۔مگر جب انہوں نے یہاں آکر دیکھا تو نقشہ ہی اور تھا۔کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اس کا ایک تجربہ جلسہ سالانہ پر آنے سے ہی ہوتا ہے۔پس وفود کی شکل میں جب ہر ملک سے دوست جلسہ سالانہ پر آئیں گے اور یہاں کے حالات کو دیکھیں گے تو ان کا علم بڑھے گا۔میں نے بتایا تھا کہ ایک یوگوسلاوین جسے میں مہمان بنا کر انگلستان کے جلسہ پر لے گیا تھا۔وہ سولہ سو آدمیوں کا جلسہ دیکھنے کے بعد کہنے لگا جب میں نے واپس جا کر اپنے 950