تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 948
خطبه جمعه فرموده 119اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہمارے گھر میں پکتا ہے اور کوئی آدمی اس کو پکانا جانتا ہی نہیں۔ہم اسے ملائی کے گلگے کہتے ہیں۔اس نام کی کوئی چیز شاید کسی اور جگہ مل جائے، مگر یہ چیز جو ہمارے گھر پکتی ہے، وہ اور کہیں نہیں ملتی۔چنانچہ ہم نے بڑی مشکل سے اس کے اجزا اکٹھے کئے ، جو اس میں پڑتے ہیں۔منصورہ بیگم خود باورچی خانہ میں گئیں، جہاں ہمارے احمدی اساتذہ کی مستورات کھانا وغیرہ تیار کرتی تھیں۔اور اپنی نگرانی میں اسے تیار کروایا۔مگر جب کھانے پر بیٹھے تو گورنر جنرل صاحب کہنے لگے، میں تو میٹھا نہیں کھایا کرتا۔میں نے کہا، لو ایک نیا علم حاصل ہوا۔خیر میں نے ان سے کہا، آپ میٹھا نہیں کھایا کرتے ٹھیک ہے نہ کھایا کریں لیکن یہ چیز سوائے آج کی اس دعوت کے اور کہیں نہیں ملے گی۔کیونکہ یہ ہمارے گھر کا نسخہ ہے۔اس لئے چکھ کے تو دیکھ لیں۔چنانچہ میرے کہنے اور زور دینے پر انہوں نے تھوڑا سا ٹکڑا لے کر کھا لیا۔لیکن باقی وزراء اور حج صاحبان اور دوسرے معزز افریقن دوست جو میرے قریب نہیں بیٹھے ہوئے تھے اور جن کو میں اصرار سے منوانہ سکا، انہوں نے میٹھا نہیں کھایا ہوگا۔اب دیکھو ایک ملک ہے، جہاں کے لوگ میٹھا کھاتے ہی نہیں۔اور ایک ملک ہے مثلاً ہمارا پاکستان جس میں کروڑوں روپے کی کھانڈ باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔چنانچہ کچھ عرصہ ہوا حکومت کو اس غرض کے لئے ساٹھ کروڑ روپے کا زرمبادلہ خرچ کرنا پڑا۔اور یہ بڑا ظلم ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ اتنی بڑی زرمبادلہ کی رقم کسی اور مفید چیز کے منگوانے پر خرچ ہوتی مگر حکومت مجبور ہے۔لوگ کہتے ہیں ہم میٹھے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔حالانکہ باپ تو تمہارا گڑ اور شکر کھایا کرتا تھا تم اتنی جلدی کھانڈ پر کیسے آگئے۔تمہارے باپ دادوں میں سے 999 اس قسم کا گڑ کھایا کرتے تھے جس کو تم آج ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرو گے۔کیونکہ اس وقت تک میل کاٹنے والے آلات اور کیمیاوی نسخے نہیں بنے تھے۔گنا عام تھا اس سے گڑ بنا لیا جاتا تھا اور اسے فیشن کی چیز سمجھا جاتا تھا۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ میں علم بڑھانے کے لئے ہر چیز کا مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔ایک دفعہ ہم صبح سویرے تیتر کا شکار کرنے کے لئے باہر گئے تو ہم ایک ایسے کنویں پر جا پہنچے، جہاں ایک زمیندار جس نے ساری رات کنواں چلوایا تھا بیٹھا ہوا تھا۔ہم نے وہاں موٹریں کھڑی کیں اور سوچا کہ اسی جگہ ڈیرہ ڈال لیتے ہیں۔دوپہر کے کھانے کے وقت پانی مل جائے گا صبح کا وقت تھا۔اس زمیندار کی بیوی اس کے لئے کھانا لے کر آئی۔مجھے خیال آیا کہ دیکھنا چاہیے کہ ساری رات بیچارہ کام کرتا رہا ہے، اب یہ کھائے گا تو کیا کھائے گا۔چنانچہ میں السلام علیکم کہ کر اس کے پاس چلا گیا اور کہا میں تمہارا مہمان آیا ہوں۔کیا تم اپنے مہمان کو بھی کھانے کا پوچھو گے۔کہنے لگا کیوں نہیں پوچھوں گا۔خیر میں اس 948