تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 934 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 934

خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں، اس کا دماغ کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے، عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں۔اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلافات کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے۔مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں ، سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں، سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں ، سوال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا ! ی مضمون کے تسلسل میں پھر آپ نے فرمایا:۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یا درکھیں کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ الكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَة لفظ بلفظ پورا ہورہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہر بیل کر اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرداً فرد ایور چین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں۔مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم بھی سب مل کر ان کا مقابلہ کریں۔کیونکہ اس معاملہ میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا، جن میں کہ اختلاف نہیں، نہایت ہی بے وقوفی اور جہالت کی بات ہے۔اسی تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 386 تا 388) پس یہ وہ زبردست انتباہ ہے، جو اس فتنہ کے آغاز میں کیا گیا تھا۔یعنی 1948 ء میں جب کہ اسرائیل کی حکومت معرض وجود میں آئی تھی۔اس میں ایک عظیم منصوبے کی طرف رہنمائی کی گئی تھی۔جس کے لئے تمام مسلم اقوام اور مسلم گروہوں میں اتحاد کی ضرورت تھی۔پھر اس میں مسلمانوں کو عقلاً سمجھایا گیا تھا کہ تم اس وقت اختلافات کو زیر بحث نہ لاؤ اور جو عقائد اور عادات اور روایات اور بدعات کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، ان کو بھول جاؤ۔کیونکہ جو مسئلہ ہمارے سامنے ہے، وہ اختلافی نہیں ہے۔و۔وہ 934