تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 932 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 932

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بلکہ ساری دنیا سے ہے۔لیکن میں اس منصوبہ کی صرف ایک چھوٹی سی مثال دے رہا ہوں ) تو خدا کرے اور اس کی رحمت جوش میں آئے تو کوئی بعید نہیں کہ اگلے دس سال میں جہاں ہم آج سینکڑوں کی باتیں کرتے ہیں کہ ان ملکوں میں اتنے سواحمدی ہیں، جو عیسائیت یا دہریت یا مذہب سے لا پرواہی کو چھوڑ کر مسلمان ہوئے ہیں۔وہاں ہم لاکھوں کی باتیں کرنے لگیں۔پس دوست دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھے توفیق بخشے اور میں جماعت کے سامنے یہ منصوبہ پیش کر سکوں اور جماعت کو اسے سمجھنے اور اس کے لئے قربانیاں دینے کی توفیق ملے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس سے زیادہ اچھے اور بہتر نتائج نکالے، جو ہمارے دماغ اپنے تصور میں لا سکتے ہیں۔کیونکہ ہمارے دماغ محدود ہیں مگر اس کی رحمتیں غیر محدود ہیں۔اس نے تو سارے کرہ ارض کو لپیٹا ہوا ہے۔فرینکفرٹ مغربی جرمنی میں میری ایک پریس کانفرنس اور جماعت احمدیہ کے متعلق ایک کیتھولک اخبار نے قریباً 4, 3 صفحے کا نوٹ دیا ہے۔اور سوائے ایک بات کے جس کا ایک ذرا سا حصہ وہ نہیں سمجھے اور وہ اپنے سیاق و سباق کے لحاظ سے واضح ہے، باقی باتیں بغیر کسی تنقید کے شائع کر دی ہیں۔میں حیران ہوں کہ ایک کیتھولک اخبار ہے اور عیسائیت سے ہماری جنگ ہورہی ہے مگر اخبار نے بالکل صحیح اور دیانت داری کے ساتھ میری باتیں بیان کر دیں۔جن میں سے ایک یہ کہ مرزا ناصر احمد نے ہمیں یہ بتایا کہ سرمایہ داری کے بعد اشتراکی انقلاب آیا اور پھر اس کے بعد چینی سوشلسٹ انقلاب ہے اور اب چوتھا روحانی انقلاب اسلامی انقلاب کی شکل میں بپا ہو چکا ہے۔اور ایک سو سال کے اندر اندر یہ اپنے نقطہ عروج کو پہنچ جائے گا۔اور ساری دنیا کو اپنے احاطہ میں لے لے گا۔اس نوٹ کا ترجمہ ہو رہا ہے، انشاء اللہ یہ بھی آپ کے سامنے آ جائے گا۔اس پریس کانفرنس میں، جوقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، جو باتیں میں نے بیان کی تھیں، کچھ مختصر اور کچھ زیادہ تفصیل کے ساتھ ، وہ ساری تو نہیں دے سکتے تھے یا ساری باتوں کے لئے جگہ نہیں دے سکتے تھے۔ورنہ تو سارا اخبار بھر جاتا۔4, 3 صفحہ کا دینا بھی بڑی بات ہے، علاوہ تصویر کے حصہ کے۔بہر حال یہ ایک مثال میں نے دی ہے، جو اس بڑے منصوبے کا ایک حصہ بننے والی ہے۔اگر یورپ میں ہم اپنی سی کوشش کر ڈالیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے گی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ دس سال کے اندر اندر یورپ میں لاکھوں نئے مسلمان احمدی دنیا کو نظر آنے لگ جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طاقت اور توفیق سے ہو سکتا ہے۔ورنہ ہم تو عاجز بندے ہیں اور اس کی مدد کے ہر آن محتاج ہیں“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 21 اکتوبر 1973ء) 932