تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 918 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 918

خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم انسانی عقل راہ راست پر بھی رہتی ہے اور اس سے بھٹک بھی جاتی ہے۔عمل صالح عقل کے لحاظ سے بھی ہے۔جب انسان اپنی عقل پر اس قدر قابو رکھ سکتاہوکہ وہ بہکے نہیں اورصراط مستقیم پر قائم رہے اور غلط نہیں بلکہ صحیح نتائج نکالے۔دنیا جب جنون میں مبتلا ہوئی تو اس نے کہا کہ محض عقل کافی ہے، الہام کی ضرورت نہیں۔عقل کی مثال اس دنیا میں انسانی آنکھ سے دی جاسکتی ہے۔بینا ہونے کے لئے باہر کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔رات کو روشنی بند کرنے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو اگر چہ آنکھیں آپ کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھ نہیں سکتے۔اگر الہام کی روشنی نہ ہو تو عقل اندھیرے میں پڑ جاتی ہے۔پس ایسے اعمال اعمال صالحہ کہلائیں گے جو عقل کی روشنی مہیا کرنے کا موجب ہوں۔پھر مال تھوڑا بھی ملتا ہے اور بہت بھی۔اولا د ایک دو تک بھی ہوتی ہے اور بعض معاشروں میں سولہ سترہ تک بھی ہوتی ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں بچے کی ضرورت نہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بعض اعمال صالحہ سے اپنے آپ کو محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگ تربیت کے بوجھ سے آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ ہوگا کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں۔دنیا کی ہر چیز ہمارے لئے ثواب اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔رہبانیت کی اسلام میں اجازت نہیں بلکہ جس قدر نعماء کی فراوانی ہوگی۔اسی قدر اعمال صالحہ بجالانے کے زیادہ مواقع ہوں گے۔مومن دنیا سے گھبرا تا نہیں ، دنیا سے بے زار نہیں۔مومن دنیا کما تا تو ہے لیکن دنیا کی بادشاہت قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔وہ دنیا کے مال کو اس کی دولت کو ، مذہب کا خادم بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دیکھیں۔یہ تو نہیں کہ آپ فقیر تھے۔دنیا کی دولت اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں میں لاکر رکھ دی اور وہ قدم جو اللہ کی یاد میں محو تھے انہوں نے اس دولت کو ٹھوکر مار کر پھینک دیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شعر میں کہا ہے کہ تیرے پیارے کو دنیا جہان مل جاتا ہے لیکن وہ اس جہان کو لے کر کرے کیا ؟ جس قدر دنیاوی نعماء میں وسعت ہوگی اتنے ہی زیادہ عذاب کے مواقع میسر آنے کا خطرہ ہوگا۔اسی نسبت سے انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کو جذب کرنے کے مواقع بھی اپنے لئے پیدا کر سکتا ہے اور خدا تعالی کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔پھر آپ کی کوششیں، قربانیاں، ایثار، دنیا سے بے رغبتی ، خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لینا یہ آپ کا اپنا کام ہے۔918