تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 919 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 919

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جولائی 1973ء آپ جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس وقت انگلستان ہے یا بعض دوسرے ممالک ہیں جہاں آپ کو ثواب کے بعض مواقع سے محروم رہنا پڑتا ہے مثلاً پاکستان میں بعض مخالف کھڑے ہو جاتے ہیں اور مارنا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے بلوچستان میں احمدیوں پر گولی چلائی گئی جس سے ان کو عارضی طور پر بے گھر ہونا پڑا۔وہاں کی جماعت کے پریذیڈنٹ کی انگلی پر راکفل کی ایک گولی لگی۔اگر نیت یہ ہو کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں ہم نے اپنے رب کی راہوں کو تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانا ہے تو انگلی کا معمولی زخم بھی شہیدوں میں شامل کر دیتا ہے۔اب جو صلہ ان لوگوں کو تکلیفیں اٹھا کر ملا آپ اس سے محروم ہیں۔ایک دفعہ بعض غرباء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! غریب لوگ دوسروں جیسا اخلاص رکھتے ہیں۔دل میں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا ویسا ہی جذبہ ہے لیکن امراء کی قربانیوں میں ہماری قربانیوں کی نسبت زیادہ وسعت ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک طریق بتاتا ہوں اسکو اختیار کرو پھر تمہیں اور ثواب ملے گا۔چنانچہ آپ نے ان کو ایک وظیفہ بتایا۔اس پر غرباء نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر امیروں کو اس کا پتہ چل گیا تو پھر وہ بھی اس پر عمل شروع کر دیں گے۔یہ جذ بہ جو صحابہ رضوان اللہ علیہم کے سینوں میں پیدا ہوا ، وہی جذبہ خدا تعالیٰ کی ہر پسندیدہ اور چنیدہ جماعت میں پیدا ہونا چاہیے۔دنیا کی کسی نعمت کے نتیجے میں کوئی قربانی دینی پڑے تو ہم دینگے۔لیکن قربانی کی ایک راہ بند ہو جائے تو ہم دوسری راہ تلاش کر لیں گے۔تا خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی بعض رحمتوں سے محروم نہ ہو جائیں۔اب آپ یہ تو کر نہیں سکتے کہ خواہ مخواہ کسی سے جھگڑا کر کے چانٹے کھائیں۔آپ لوگ تو اس قسم کی ایذاء دینے والی باتیں نہیں سن پاتے جو ہمیں سننی پڑتی ہیں۔جب آپ کے کان میں وہ باتیں ہی نہیں پڑیں گی تو کسی رد عمل کا سوال ہی نہیں پیدا ہو گا۔اس لئے میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ ثواب کے حصول کی بعض راہیں آپ پر بند ہیں۔اس لئے جو راہیں آپ پر کھلی ہیں ان میں اپنے ایثار اور قربانی میں شدت اختیار کریں اور اپنے ماحول کے مطابق قربانیوں میں آگے نکلنے کی کوشش کریں۔دنیا کی فضا ہم درست کر دیں اور دنیا کو یہ بنیادی سبق سکھا دیں کہ اسلام کا پیغام محبت اور اخوت کی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔نفرت ، حقارت ظلم، نا انصافی اور دکھ دینے کی بنیادوں پر کھڑا نہیں ہوا۔قرآن کریم کو ہم نے شروع سے آخر تک پڑھا کہیں بھی نفرت ، حقارت، نا انصافی ، دکھ دینے اور زبان درازی کی تعلیم نہیں پائی بلکہ یہ پڑھا کہ اللہ تعالی ظالم اور بے انصاف سے پیار نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے پاک اور مطہر راستوں کو اختیار کرنا پڑے گا۔یہ پڑھا کہ صراط مستقیم خدا 919