تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 75

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 12 اکتوبر 1966ء مشرقی افریقہ میں سکول قائم کرنے ناممکن نہیں خطاب فرمودہ 12 اکتوبر 1966ء حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مکرم مولوی عبد الکریم صاحب شر ما مبلغ مشرقی افریقہ کو مخاطب کر کے فرمایا:۔ناممکن دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ناممکن وہ ہے، جو ممکن نہیں بن سکتا۔اور ایک وہ ناممکن ، جو ممکن بن سکتا ہے۔ایسی ناممکن بات جو خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کے وعدوں کے خلاف ہو ممکن نہیں بن سکتی۔لیکن اس کے علاوہ ہر ناممکن نسبتی امر ہے۔یعنی کسی کے لئے وہ ناممکن ہوتا ہے اور کسی کے لئے ممکن۔مثلاً اس زمانہ میں اسلام کا غلبہ بڑے بڑے مسلمان علماء کے نزدیک بھی ناممکن امر تھا۔اس لئے ان میں سے ایک طبقہ، جن میں جامعہ مسجد آگرہ کا امام مولوی عمادالدین بھی شامل تھا، اسلام سے ارتداد اختیار کر کے عیسائی ہو گیا۔دینی لحاظ سے وہ لوگ اتنے بڑے عالم تھے کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ وہ کس طرح عیسائی ہو گئے۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ ان میں سے ہر فرد یہ سمجھتا تھا کہ اب اسلام عیسائیت پر غالب نہیں آسکتا۔اس وقت عیسائیت دنیا میں غالب آچکی ہے اور اسلام بظاہر حالات اس سے شکست کھا چکا ہے۔اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ کیوں نہ اس مذہب کو اختیار کر لیا جائے ، جس کو دنیا میں عزت حاصل ہے۔چنانچہ وہ عیسائی ہو گئے۔اب دیکھو وہ چیز ، جو باقی مسلمانوں کے نزدیک غیر ممکن تھی ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ممکن ہی نہیں، یقینی تھی۔ظاہراً اسلام غلبہ نہیں پارہا تھا۔دولت کے لحاظ سے مسلمانوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی تھی۔ان کی حکومتیں ختم ہو چکی تھیں۔علم کے لحاظ سے انہیں دوسری قوموں کے پیچھے جانا پڑتا تھا۔دنیوی سامان انہیں میسر نہیں تھے۔اخلاقی لحاظ سے ان کی حالت گر چکی تھی اور عیسائی ہر لحاظ سے ان پر غالب آچکے تھے۔غرض ہر لحاظ سے اسلام کے غلبہ کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی۔ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو دنیا میں کھڑا کیا اور اسے کہا کہ میں تمہارے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا کروں گا۔عیسائی کیا ، باقی تمام مذاہب کے پیرو بھی تمہارے مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے۔اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر اتنا 75