تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 892
خطبہ جمعہ فرمودہ 06 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کانو کے مغرب میں سکو تو کا صوبہ ہے۔جہاں حضرت عثمان بن فودی علیه الرحمة کے بڑے بیٹے کی نسل آباد ہے۔اور مذہبی اثر ورسوخ اور سیاسی اقتدار کی مالک ہے۔کانو کا علاقہ ان کے چھوٹے بیٹے کو ملا تھا۔حضرت عثمان بن فودی علیہ الرحمۃ نے اپنی زندگی میں ہی حصے بانٹ دیئے تھے۔چنانچہ کا نو کا علاقہ ان کے چھوٹے بیٹے کے حصہ میں آیا تھا۔اس علاقہ میں جب ہمارا ہسپتال اور سکول کھل گیا تو وہاں کے افسروں کا ایک حصہ تو ہمارے ساتھ بڑا تعلق رکھنے لگا لیکن تبلیغ واشاعت کے دروازے کھلنے کی وجہ سے بعض افسروں کی طرف سے بڑی مخالفت رہی۔اور اب بھی ہے۔مخالفت سے ہم ڈرتے نہیں کیونکہ یہ تو دراصل ہماری ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔چنانچہ کا نو میں سکول تو کھل گیا۔لیکن حکومت اس کو مالی امداد دینے کے لئے ایک با قاعدہ سکول کے طور پر ابھی تک تسلیم نہیں کر رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ گو ہم نے تمہیں سکول کھولنے کی اجازت تو دے رکھی ہے اور تمہار اسکول عملاً کام بھی کر رہا ہے لیکن تمہارے پاس نہ اپنی زمین ہے اور نہ اپنی عمارت۔تم کرایہ کی ایک عمارت میں کام کر رہے ہو ، ہم اسے با قاعدہ سکول سمجھ کر کیسے مدد دینی شروع کر دیں۔تاہم وہ افسر جو ہم سے اچھا تعلق رکھتے تھے ، وہ ہمارے سکول کے لئے مالی امداد کے حصول کی برابر کوششیں کرتے رہے۔اور ادھر مخالفین بھی اپنی مخالفت میں لگے ہوئے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا وہاں سے یہ اطلاع ملی ہے کہ حکومت نے ہمارے اس سکول کے لئے دس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر یا برائے نام قیمت پر دے دی ہے۔الحمد للہ علی ذالک اب یہ روک تو دور ہو گئی ہے۔انشاء اللہ وہاں سکول کی عمارت بھی بن جائے گی اور باقاعدہ سکول بھی بن جائے گا۔جب سکولوں کو حکومت کی طرف سے امداد ملنی شروع ہو جائے تو پھر سکولوں کے اخراجات کا بوجھ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔لیکن جب تک امداد نہ ملے ان کا سارا بوجھ جماعت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ظاہر ہے سکول چلانا کوئی معمولی بات نہیں، اس پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔ہم نے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہوتا ہے۔وہی ہمیں دیتا ہے اور کہتا ہے خرچ کرو یعنی خود ہی دیتا ہے اور خود ہی خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور ہمیں ثواب دے دیتا ہے۔ہم اس کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے بڑے ممنونیت اور حمد سے بھرے ہوئے جذبات رکھتے ہیں۔پس ایک تو یہ فضل ہے جس کا ذکر میں آج اس خطبہ میں کرنا چاہتا تھا تا کہ یہ بات جماعت کے علم میں آجائے اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ تحمید اور تسبیح کرنے والے بن جائیں۔دوسری خوشخبری، جس کا میں اس وقت ذکر کرنا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ 1970ء میں جب میں مغربی افریقہ کے دورہ پر گیا تو لائبیریا میں پریذیڈنٹ ٹب مین صاحب سے بھی میری ملاقات ہوئی۔892