تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 886 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 886

خطبه جمعه فرمودہ 23 مارچ1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نو جوان احمدی نسل کا تعلق ہے، یہ دوسروں سے بدرجہا بہتر ہے۔مثلاً میں نے جب ڈاکٹروں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی تو ہمارے چند نوجوان ڈاکٹر جو ڈاکٹری کے آخری سال میں پڑھ رہے تھے، انہوں نے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر اس خدمت کے لئے پیش کیا۔ان میں سے ایک نو جوان ڈاکٹر وہ بھی تھا، جو لاہور کے علاقہ میں یونیورسٹی بھر میں اول آیا تھا۔لیکن جس وقت ان کا نتیجہ نکلا بھارت کے ساتھ ہماری جنگ شروع ہوگئی اور ہمارے ملک کو ڈاکٹروں کی ضرورت پڑ گئی۔تو ہمارے ان ڈاکٹروں کو بھی انٹرویو کے لئے بلا لیا گیا۔وہ میرے پاس آئے کہ ہم نے وقف کیا ہوا ہے۔لیکن حکومت کی طرف سے یہ چٹھی آگئی ہے۔میں نے ان کو سمجھایا کہ بات یہ ہے کہ جہاں تک اپنے ملک کا سوال ہے اس کی خدمت کو بہر حال مقدم رکھا جائے گا۔اگر ہمارے ملک کو آپ کی خدمت کی ضرورت ہے تو جب تک ملک کو آپ کی ضرورت رہے آپ اپنے ملک کی خدمت کرتے رہیں۔مگر انٹر ویو بورڈ سے صاف صاف کہہ دیں اس میں گھبرانے کی یا جھجکنے کی یا ڈرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے۔آپ کہیں کہ ہمارا قصہ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں، ہم نے اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کیا ہوا ہے۔ہماری نیت یہ ہے اور ہمارے لئے پروگرام بھی یہی ہے کہ ہم افریقہ کے جنگلوں میں جا کر اسلام کی خدمت کریں اور اسلام کے غلبہ کی مہم کو کامیاب کرنے کے لئے بساط بھر کوشش کریں۔مگر جس وقت آپ نے ہمیں انٹرویو کیلئے بلایا تو ہم اپنے امام کے پاس گئے اور انہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ملک کو ضرورت ہو اور جب تک ضرورت ہو اس وقت تک کام کرتے رہو۔اور ہمیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بورڈ سے یہ بھی کہہ دینا کہ ہم بغیر تنخواہ کے بھی ملک کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ جب میں نے انٹرویو بورڈ کے صدر ( جو ایک جرنیل صاحب تھے ) کے سامنے یہ بات کی تو ان کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ایسی باتیں استثنائی صورت ہی میں سننے میں آتی ہیں اور عجیب بات ہے کہ جب بھی استثنائی طور پر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے منہ سے نکل رہی ہوتی ہے۔ابھی ہنگامی حالات ہیں۔اس لئے حکومت نے ہمارے واقف ڈاکٹروں کو فارغ نہیں کیا۔بلکہ جس ڈاکٹر کے متعلق میں نے بتایا ہے وہ اپنی کلاس میں اول آیا تھا، اس کو اس کے بریگیڈ پرڈاکٹر نے کہا کہ خدا نے تمہیں اتنی اعلی عقل و فراست عطا کی ہے تم ایک ہائر کورس (Higher Course) کرو لیکن اس کے لئے تمہیں پانچ سال کا معاہدہ کرنا پڑے گا۔اس نے مجھ سے پوچھا۔میں نے کہا، چپ کر کے اپنا کام کئے جاؤ۔لیکن بریگیڈیر صاحب کے ذہن پر ہمارے اس بچے کی ذہانت کا کچھ ایسا تاثر تھا کہ وہ ہمارے ایک احمدی کرنل سے کہنے لگے ، کہ اس کو جب میں یہ کہتا 886