تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 883 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 883

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مارچ 1973ء خدمت کے لئے گئے تھے۔وہ قومی ملکیت میں لینا چاہتے ہیں تو بڑی خوشی سے لیں۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔دوسرے میں نے وہاں کی جماعت کو یہ بھی لکھ کر بھیجا کہ اگر وہ اساتذہ کو رکھنا چاہیں تو ہمارے اساتذہ وہاں کام کریں گے اور اپنا نیک نمونہ پیش کریں گے۔جس سے اپنے آپ تبلیغ ہوتی رہے گی۔گویا ہمارا کام اسی طرح ہوتا رہے گا۔جس طرح وہ اپنے سکول میں رہ کر کرتے۔تیسرے اگر وہ اخراجات کا معاوضہ دینا چاہیں تو وہ ہم نہیں لیں گے۔ہم وہاں ان کی خدمت کیلئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس حد تک اور جتنے عرصہ تک خدمت کی توفیق دی، ہم نے خدمت کی۔اب ہم ان کو بنی بنائی چیز دیتے ہیں۔چنانچہ جب ہمارا وفد ملنے گیا اور یہ پیشکش کی گئی کہ ہم خرچ نہیں لیں گے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ویسے بھی انسان کے ساتھ اگر کوئی پیار کا برتاؤ کرے تو وہ خوش ہوتا ہے۔تا ہم ان کیلئے خوشی کی اصل وجہ اور تھی۔اور وہ مجھے دو ایک ہفتے بعد میں معلوم ہوئی۔دوست جانتے ہیں کہ عیسائی پادری وغیرہ بھی وہاں گئے ہوئے ہیں اور انہوں نے بھی وہاں سکول کھول رکھے ہیں۔جب حکومت نے سکولوں کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تو وہ بڑے تلملائے۔کیونکہ وہ خدمت کے جذبہ سے تو وہاں جاتے نہیں۔بلکہ عیسائیت کے پھیلانے اور پیسے کمانے کے لئے وہاں جاتے ہیں۔غرض عیسائیوں نے جب یہ سنا کہ حکومت سکولوں کا معاوضہ دے گی۔تو انہوں نے بڑے مبالغہ آمیز دعاوی تیار کئے۔لیکن جب ہماری طرف سے ایک وفد کے ذریعہ خرچ نہ لینے کی پیشکش کی گئی تو وہاں کے اخبارات، ریڈیو، ٹیلیویژن پر شور مچ گیا۔عیسائی سکولوں والے بہت ہی تلملائے۔اُن کے منتظمین ہمارے اساتذہ اور مبلغوں کے پاس آئے کہ آپ نے یہ کیا ظلم کر دیا ہے۔حکومت چنگے بھلے پیسے دے رہی ا، آپ نے لینے سے انکار کیوں کر دیا ہے؟ اس سے ہمارے لئے مشکل پڑ گئی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمیں وہاں بے لوث خدمت کرنے کی توفیق ملی۔کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہمارے سکولوں کو کھلے ہوئے تو ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے۔لیکن ڈیڑھ سال تک بھی بنی نوع انسان کی اس رنگ میں بے لوث خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔خدا تعالی کا پیار تو ایک لمحہ کے لئے مل جائے تو وہ بھی بڑی چیز ہے۔ہماری دعا ہے کہ ہر وقت ہی اس کا پیار ملتا رہے۔اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی۔اللہ تعالیٰ کے ایک لمحہ کے پیار کے سامنے ساری دنیا کے خزانے بیچ ہیں۔ہمیں ڈیڑھ سال تک اللہ کے پیار اور محبت کو پانے کی توفیق ملی۔اس عرصہ میں ان کی خدمت ، سکول کی عمارت، سکول کا انتظام ، سکول کے فرنیچر، سکول کے لئے یہاں سے اساتذہ بھجوانا وغیرہ 883