تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 884 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 884

خطبه جمعه فرمودہ 23 مارچ 1973 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کوئی معمولی خدمت نہیں ہے۔پھر اس کے علاوہ یہ خدمت بھی ملی کہ جو لوگ وہاں پیسے کمانے گئے تھے ان کو پیسے نہیں کمانے دیئے اور اب ان کو بڑی دقت کا سامنا ہے۔حکومت ان کو معاوضہ دے گی تو ضرور لیکن اتنا نہیں دے گی، جتنا وہ سوچ رہے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ سارے مل کر حکومت سے زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کی کوشش کریں۔لیکن چونکہ ایک حصہ ( یعنی احمد یوں ) نے کہا کہ ہم حکومت سے ایک دھیلہ نہیں لیتے۔اس لئے اب ان کی خواہشات پوری نہ ہوسکیں گی۔اس کے علاوہ اس سٹیسٹ کے باشندے گو باہر نکل کر احمدی ہو جاتے تھے۔لیکن وہاں ریاست کے اندر ہمارے مبلغ کا جانا بھی مشکل تھا۔اب وہاں ہماری تبلیغ کا دروازہ کھل گیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر سب سے بڑا فضل ہوا ہے۔اب وہاں نئی جماعتیں قائم ہونی شروع ہوگئی ہیں۔ابھی پرسوں ترسوں مجھے خبر ملی کہ اس ریاست میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد بھی بن گئی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔پھر جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا تھا، وہاں کے چندلوگوں نے جو وہاں کی دینی اور دنیوی اثر ورسوخ رکھنے والی ہستیاں ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم تو بڑی دیر سے احمدی ہیں۔جماعت سے ان کا عملی تعلق اس وجہ سے نہیں تھا کہ اس علاقے کے حالات ہی کچھ ایسے تھے۔چنانچہ ایسے ہی ایک بہت بڑے آدمی سے ہمارے ایک احمدی ٹیچر نے کہا ، اگر آپ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں تو پھر حضرت صاحب کو لکھ دوں۔تو وہ کہنے لگے میرے متعلق ضرور لکھ دو، میرے لئے دعا کے لئے بھی عرض کرو اور یہ بھی لکھو کہ میں تو حکیم فضل الرحمان صاحب کے زمانہ میں بچہ تھا۔ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا، اس وقت سے احمدی ہوں۔اب دینی اور دنیوی ہر دو لحاظ سے اس کا بڑا بلند مقام ہے۔اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وہاں اور بھی بہت سے چھپے ہوئے احمدی ہیں۔گویا وہاں احمدی تو تھے لیکن ہمیں ان کا علم نہیں تھا۔وہاں کے مقامی حالات کی وجہ سے جماعت سے ان کا کوئی عملی تعلق نہیں تھا۔غرض اللہ تعالیٰ اپنے پیار اور رحمت سے ہماری حقیر سی کوششوں کے بڑے اچھے نتائج نکال رہا ہے اور ہمارے لئے جسمانی اور روحانی خوشیوں اور مسرتوں کے سامان پیدا کر رہا ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر بھی بتایا تھا، اب وہاں کے ایک ملک کے سفیر نے یہ کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ اس سال کے بعد ہمارے ملک میں (ویسے ملک چھوٹا سا ہے ) اکثریت احمدیوں کی ہو سا چکی ہوگی۔اس لئے میں نے اپنے بیٹے سے کہا ہے ابھی جا کر بیعت کر لو۔جب اکثریت احمدی ہو جائے گی تو اس وقت بیعت کرو گے تو کیا مزہ آئے گا۔مجھے پتہ لگا ہے کہ کچھ سمجھدار لوگ اس دفعہ حج پر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے افریقہ سے آنے والے حاجیوں سے ملاپ کیا۔مختلف ملکوں کے حاجی تھے خصوصاً افریقہ 884