تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 872
تقریر فرمودہ 102 اپریل 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم غرض میں نے انگلستان کی جماعت کو اس فنڈ میں حصہ لینے کی تحریک کی اور پچاس ہزار پونڈ کا ٹارگٹ مقرر کیا۔چنانچہ اڑتالیس ہزار پونڈ کے وعدے ہو گئے اور دوست اب تک 32 ہزار نقدا دا بھی کر چکے ہیں۔پھر میں نے یہاں آکر تقریریں کیں، اللہ تعالیٰ نے بڑے فضل فرمائے۔حالانکہ قوم تھکی ہوئی تھی۔فضل عمرفاؤنڈیشن کے چندے دے کرستانے ہی لگی تھی کہ خدا نے فرمایا تمہیں ستانے کا حکم نہیں۔انگریز جرمنوں سے پہلے تو اپنی شکست پر شکست خریدنے کے لیے اپنے آراموں کو چھوڑ رہے تھے، جب کہ ہم پر تو فتح پر فتح پانے کے لئے آراموں کو چھوڑ رہے ہیں۔انگریزوں اور ان کے اتحادیوں یا دولت مشترکہ کی افواج اور ہماری کوششوں میں بڑا فرق ہے۔وہ شکست اٹھا رہے تھے اور اپنے آرام کو چھوڑ رہے تھے۔ایک برگیڈئیر نے لکھا ہے کہ جرمن فوجیں آگے بڑھ رہی ہوتی تھیں، ہم رات کے ایک بجے اس جگہ پہنچتے تھے، جہاں ہمیں ٹھہرنے کا حکم ہوتا تھا اور وردی سمیت لیٹنے نہ پاتے تھے کہ دوسرا حکم آجا تا تھا کہ جرمن فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں، پیچھے ہٹو۔اس نے لکھا ہے، اس کا اردلی آکر جھنجھوڑ کر بٹھا دیتا تھا اور کافی یا چائے کا گرم گرم کپ پکڑا تا تھا کہ پیو۔کہتا ہے، آنکھیں بند اور دو چار گھونٹ پی کر جب ہوش آتا تھا تو وہ کہتا تھا، پیچھے دوڑنا ہے۔انہوں نے آرام نہیں کیا اور شکست پر شکست کھاتے چلے گئے۔اور ہمیں بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم نے آرام نہیں کرنا ، آگے سے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔فتح پر فتح حاصل کرو۔مگر آرام نہیں کرنے دوں گا۔چنانچہ فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت نے بڑی قربانی دی اور اس پر خدا کی خوشنودی کے لئے ہر قسم کی کوفت اور تکلیف اٹھائی۔اگر تکلیف نہ ہو تو قربانی کیسی؟ اور اس کی جزاء اور انعام کیسا؟ فاؤنڈیشن کے وعدے پورے ہوئے تو جماعت نے سمجھا ، اب سستانے کا وقت ہے۔خدا نے فرمایا میں تمہیں ستانے نہیں دوں گا۔اور آگے بڑھو اور نئی فتح حاصل کرو۔چنانچہ نصرت جہاں ریزروفنڈ کی تحریک ہوئی اور اس کے لئے پہلے سے زیادہ قربانی دینے کا مطالبہ ہوا۔حالانکہ فاؤنڈیشن کے وعدہ جات کی وصولی کو ختم ہوئے، چند مہینے ہوئے تھے۔فاؤنڈیشن کی رقم نفع وغیرہ ملا کر چالیس لاکھ تک پہنچتی ہے۔میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس کا چندہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت کے جتنے سال ہیں، اتنے لاکھ ہو جائے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا، میری تقدیر سے کم خواہش پیدا ہوئی ، اس سے زائد دوں گا۔خواہش تو یہ تھی کہ 53لاکھ ہو جائے۔تاکہ خلافت ثانیہ کے سال کے حساب سے ہمیں ایک لاکھ زائد چندہ آ جائے۔چنانچہ نصرت جہاں ریزروفنڈ میں پاکستانی جماعتوں کے وعدے 27 لاکھ اور وصولی قریباً پندرہ لاکھ اور بیرون پاکستان کا وعدہ قریباً 1 لاکھ ہے۔یہ کل 38 لاکھ بن جاتا ہے۔اور اس وقت تک پہلے سال کی جو آمد ہوئی ہے، اس کی مالیت قریباً نولاکھ روپے ہے۔جو کل 47 لاکھ بن جاتی ہے۔اور یہ رقم جو آرہی 872