تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 871
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 102 پریل 1972ء ہمیں کیا دلچسپی ہے، حکومتوں سے۔حکومتیں تو تم کو جو اس وقت حاکم خاندان ہو، خدا مبارک کرے۔لیکن جو دینی کام ہیں، وہ احمدیت ہی کو کرنے پڑیں گے۔انشاء اللہ۔اور پھر اس وقت جو اشد ترین بغض رکھنے والا اور مخالفت کرنے اور گندہ دہنی کرنے والا اور ایذاء رسانی کرنے والا اور خود کو مسلمان ہونے کا اعلان کرنے والا ہو گا، اس پر جماعت احمدیہ کے انتظام میں خانہ کعبہ کے دروازے بند نہیں کئے جائیں گے۔انشاء اللہ۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے یہ دروازے کھولے ہیں کسی انسان کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان دروازوں کو بند کر دے۔اور کسی انسان کو یہ اخلاقی اور مذہبی جرات نہیں ہونی چاہئے کہ وہ عارضی طور پر ان دروازوں کو کسی قوم پر بند کرے۔مگر یہ تو نصیحت ہے، جو میں آج کر رہا ہوں۔باقی جو واقعات اور حقائق ہیں، جن کا مستقبل کے ساتھ تعلق ہے، وہ اپنے وقت پر ایک ٹھوس حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آئیں گے۔اور ایک لحظہ کے لئے میرے دل میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہوا ، نہ آپ کے دل میں پیدا ہونا چاہیے۔وو۔۔۔اب میں نصرت جہاں ریزور فنڈ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس تحریک کا القاء اس وقت فرمایا تھا، جب میں اپنے دورہ کے پانچویں ملک گیمبیا میں تھا۔شروع میں یہ تحریک ایک پیج کے طور پر میرے ذہن میں ڈالی گئی۔میں وہاں سے سیرالیون گیا اور پھر یہ دورہ ختم کر کے انگلستان آگیا۔وہاں گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ منصوبہ بتایا۔اور مجھے خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ کم از کم ایک لاکھ پونڈ اس منصوبہ پر جلد خرچ کرو۔اس منصوبے میں نئے مبلغوں کا جانا بھی تھا۔لیکن یہ امر اس خرچ کے دائرے میں نہیں آتا۔لیکن نئے سکول اور ان کے لئے اساتذہ کا جانا ، ہسپتالوں اور ان کے لئے ڈاکٹروں کا جانا ، اس منصوبے میں شامل تھا۔جب خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس غرض سے ایک لاکھ پونڈ جلد از جلد خرچ کرو تو میں تو ایک درویش صفت انسان ہوں، مجھے اس کے لئے قطعاً کوئی فکر نہیں پیدا ہوا۔میں نے سمجھا خدا نے فرمایا ہے، اسی کا یہ کام ہے، وہی خدا اپنے فضل سے سامان پیدا کرے گا۔میں نے اس سلسلہ میں پہلا خطاب انگلستان کی جماعت سے کیا۔اور جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ، خدا تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کو ایسی ایثار پیشہ جماعت عطا فرمائی ہے کہ وہ بشاشت سے قربانی دیتی ہے۔گو قربانی میں تکلیف تو ضرور ہوتی ہے مگر وہی قربانی قربانی کہلانے کے لائق ہے، جس میں بشاشت پائی جائے۔جو لوگ جہاد میں جاتے تھے ، وہ شہید ہو جاتے تھے۔خدا کے فرشتے آ کر اپنے بازؤوں پر دشمن کی تلواروں کو تو نہیں لیتے تھے۔وہ انتہائی بشاشت کے ساتھ آگے بڑھتے اور اپنی جان قربان کر دیتے تھے۔871