تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 866 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 866

تقریر فرمودہ 102 اپریل 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دھاگوں کو ہم نے کاٹنا ہے۔حکمت عملی سے، ایک سے زیادہ تدابیر اختیار کر کے۔ایک یہ تدبیر ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں میں ستے قرآن کریم پہنچائے جائیں۔ترجمہ قرآن کریم میں نئی طرز کا اجراء ایک اور بڑی اچھی چیز عمل میں آتی ہے۔پتہ نہیں لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے یا نہیں؟ ایک وقت میں یہ انگریزی بولنے والے اور انگریزی کی طرح لکھی جانے والی زبانیں بولنے والے قرآن کریم سے ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔اس لئے جب ہم نے ان قوموں کے دلوں میں قرآن کریم سے دلچسپی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا تو ہم نے قرآن کریم کے متن کو بائیں سے دائیں لکھنا شروع کیا۔یعنی ہماری سورۃ حمد، جو قرآن کریم کے پہلے صفحہ پر آتی ہے ، اردو رسم الخط کے حساب سے وہ آخری صفحہ پر چلی گئی۔یعنی قرآن کریم کے متن نے ترجمہ کو follow کیا۔لیکن اب خدا کے فضل سے حالات بدل گئے ہیں اور قرآن کریم میں اتنی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے کہ ہم قرآن کریم کے متن کے مطابق تراجم کو لکھیں۔اور ترجمہ متن کے پیچھے آئے ، متن ترجمہ کے پیچھے نہ آئے۔چنانچہ ہم نے اس منصوبہ کے ماتحت جو قرآن کریم شائع کئے ہیں اور افریقہ میں جاچکے ہیں، انہوں نے بھی اس کو بڑا پسند کیا ہے۔یورپ میں بھی گئے ہیں اور انہوں نے بھی دیکھ کر کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی کہ یہ کیا ہو گیا ؟ کیونکہ یہ ہوسکتا تھا کہ وہ کہتے ہم اس کو کس طرح پڑھیں گے؟ غرض کسی جگہ کے لوگوں نے بھی کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہیں کی۔چنانچہ متن کے ساتھ انگریزی کا ترجمہ چلتا ہے۔اور اب آئندہ اس طرز پر چلے گا۔کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت اور برکت سے ایک تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔جہاں تک قرآن کریم سے متعارف ہونے اور قرآن کریم سے دلچسپی رکھنے کا سوال تھا، یہ تبدیلی رونما ہو چکی، انقلاب عظیم پیدا ہو گیا۔انقلاب عظیم“ کا محاورہ ، میرا محاورہ نہیں ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا محاورہ ہے۔میرے خیال میں انقلاب عظیم کا اس رنگ میں اور اس کثرت سے استعمال سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی فرمایا ہے۔پہلے لوگوں کی تحریرات میں گو اس کا ذکر ہے لیکن اس رنگ میں نہیں ہوا ، جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔مثلاً ' صبح صادق کا ظہور یہ محاورہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استعمال فرمایا تھا اور اب اشتراکیت نے بھی اسے استعمال کیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی شان کے ساتھ اس محاورہ کو استعمال فرمایا ہے۔دوسرے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خوشہ چین ہیں۔اب جب کہ یہ ستی اور مناسب سائز میں اور اچھی چھپی ہوئی ، انگریزی ترجمہ قرآن کی جلدیں انگلستان پہنچیں تو جرمنی سے مطالبہ آگیا کہ آپ ہمیں کیوں نظر انداز کر رہے ہیں؟ قرآن کریم کا جرمن زبان 866