تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 71

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1966 ء کو بار آور کرے۔تو اس کے نتیجہ میں تمہارے اموال بڑھ جائیں گے اور اس کے ساتھ ہی مالی قربانی کی استعداد بھی۔مثلاً اگر ہم میں سے ہر ایک کی آمد بڑھ جائے لیکن جذبہ ایثار استاہی رہے، جتنا پہلے تھا۔تب بھی کمیت کے لحاظ سے ہماری مالی قربانی میں بڑا نمایاں فرق آ جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص کی آمد ایک سور و پیہ ماہوار ہے اور وہ اپنے جذبہ ایثار سے مجبور ہو کر اور اپنی استعداد کے مطابق اس میں سے ہیں فیصد روپیہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اگر وہ محنت کرے، اگر وہ اپنے علم میں زیادتی کرے، اگر وہ اپنے ذرائع کو بہتر طریق پر استعمال کرے اور اگر وہ اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں اپنی آمد کو سو سے دوسو ماہانہ کر دے اور اس کی قربانی میں فیصد ہی رہے تو پہلے وہ ہیں روپے ماہوار دیتا تھا ، اب وہ چالیس روپے ماہوار دے گا۔تو کمیت کے لحاظ سے مالی قربانی میں دگنا اضافہ ہو جائے گا۔کیونکہ اس کی آمد پہلے کی نسبت دگنی ہو گئی۔2:۔ایک اور طریق اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ تم اپنے خرچ کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ضبط میں لاؤ۔سادہ زندگی گزارو۔رسم ورواج ، جو بیاہ شادیوں کے موقع پر یا موت فوت کے موقع پر لوگوں میں رائج ہیں، ان کے نتیجہ میں اسراف کی راہوں کو اختیار کیا جاتا ہے، تم ان راہوں کو اختیار نہ کرو۔اور سادہ زندگی اختیار کر کے اپنے خرچوں کو کم کر دو۔اس کے نتیجہ میں بھی تمہاری قربانی اور انفاق فی سبیل اللہ کی طاقت اسی نسبت سے بڑھ جائے گی۔مثلاً ایک شخص کی سوروپیہ ماہوار آمد ہے اور اس کو اپنی ذات اور اپنے خاندان پر اس روپیہ ماہوار خرچ کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اور بعض باتوں میں وہ اسراف کرتا ہے اور سادگی کی تعلیم پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔اگر وہ سادہ زندگی کو اختیار کرے اور اس کا خرچ اسی روپیہ سے گر کرستر روپیہ ماہوار پر آجائے تو اس کو سادگی کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں دس روپیہ ماہوار زیادہ قربانی کرنے کی طاقت حاصل ہو گئی۔اگر وہ چاہے تو خدا کی راہ میں اسے دے سکتا ہے۔اس لئے میں تفصیل میں جائے بغیر احباب جماعت کو اور جماعتی نظام کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کے مطالبات میں سادہ زندگی کے جو مطالبات رکھے ہیں، ان کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔بہت سی جماعتیں اور بہت سے افراد اس چیز کو بھولتے جا رہے ہیں۔اگر ہم مثلاً بد قسمتی سے سینما دیکھنے کے عادی ہوں اور اب سینماد یکھنا چھوڑ دیں تو وہ دیں ، پندرہ روپے جو ہم سینما دیکھنے پر خرچ کرتے تھے، وہ ہمارے پاس بیچ رہیں گے۔اور اگر ہم چاہیں تو یہ رقم خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں۔پس میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے وہ مطالبات، جو سادہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو جماعت میں دہرایا جائے اور افراد جماعت کو پابند کیا جائے کہ وہ ان مطالبات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سادہ بنائیں۔71