تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 856
ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم گے تو تمہیں FOLLOW کرنا پڑے گا۔انہوں نے اپنے انتخاب میں ایک احمدی کو منتخب کیا۔ان کا نام پہلے عیسائیوں والا تھا۔میں نے کہا، اس کو چھوڑ کر، ناصر لگاؤ۔اب ان کا پورا نام عبد اللہ ناصر ہے۔ان کو میں نے کہا، میں تمہیں ایک سال کے لئے ربوہ کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر لگاؤں گا تم چھٹی لے کر ربوہ آجانا۔تو یہ محض دعوی نہیں ہونا چاہئے۔البتہ پہلے ممکن نہیں تھا۔اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ممکن ہو گیا ہے۔پہلے ہم پر اگر کوئی یہ اعتراض کرتا تو یہ اعتراض احمقانہ اور نا مجھی کا ہوتا۔اور ہم اس کو سمجھا سکتے تھے کہ ہم ان حالات میں ایسا نہیں کر سکتے۔لیکن اب ہمیں اس پر عمل کرنا شروع کر دینا چاہئے۔ورنہ ہم پر جائز اعتراض ہوگا کہ تم کہتے کچھ ہو اور اس کے مطابق تمہارا عمل نہیں۔جس طرح یہاں سے مبلغ جاتے ہیں۔اب یہی وہاب صاحب یہاں سے پڑھ کر گئے ہیں۔مرکز تو بہر حال مرکز ہے۔یہ تو جب تک خدا چاہے، ساری جماعت کا مرکز رہے گا۔اور اللہ کرے کہ قادیان مل جائے تو پھر وہ مرکز بن جائے گا۔جو دائی مرکز ہے۔لیکن یہاں سے تربیت حاصل کریں، دوستوں سے ملیں ، سارا کچھ قریب آکر دیکھیں۔چنانچہ وہاب صاحب جامعہ احمدیہ کے پڑھے ہوئے ہیں، اردو اس طرح بولتے ہیں کہ یہاں سے بعض پڑھے لکھے لوگوں نے باتیں کرتے ہوئے تلفظ بگاڑ دیئے ہیں۔مگر آپ ان کی باتیں سنیں تو ان سے کم تلفظ بگڑا ہوا پائیں گے۔ہمارے ریڈیو والوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔اردو زبان کے تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ایک ہی فقرہ میں اقدار اور اقدار اور اسرار کو اسرار کہہ جاتے ہیں، کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔لیکن ان کی زبان ویسے اردو کی اچھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھ دی ہے اور بڑا اخلاص دیا ہے۔ہمیں یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص بخشے اور اس پر قائم رکھے اور اس میں بڑھائے۔یہ انگلستان جا کر کام کریں گے۔اس طرح یہ کام انشاء اللہ پھیلتا جائے گا۔اب میں نے امریکہ لکھا ہے کہ فلاں شخص کو میں افریقہ میں مبلغ بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں۔پس اب وقت آگیا ہے، اپنے حالات کے مطابق گو پہلے ہمارے لئے ضروری تھا کہ ہم اپنی بنیادوں کو مضبوط کرتے۔لیکن اب خدا کے فضل سے بنیاد میں مضبوط ہو چکی ہیں۔اب اس کے اوپر منزلوں پر منزلیں بنتی چلی جانی چاہئیں۔یہاں بعض اور غانین لڑکے آئے ہوئے تھے۔دوسال کی بات ہے، میں ایبٹ آباد میں تھا، وہ نئے نئے آئے تھے، اس وقت ان کو آئے شاید چند مہینے ہوئے تھے۔میں نے کہا کہ نئے آئے ہیں، دل اداس ہو جاتا ہے۔میں نے اپنے پاس ایبٹ آباد بلا لیا اور ان کو اپنے پاس رکھا۔اسی اثناء میں جماعت احمد یہ ایبٹ آباد نے عصرانہ دیا، جس میں ایک خرانٹ مخالف وکیل (جن کا پندرہ ، ہیں 856