تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 840
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم جاری ہے۔یعنی تکمیل اشاعت ہدایت بذریعہ ان عاجز بندوں کے۔پس ہمارا سالانہ جلسہ تربیت کے لیے اجتماعی بندھنوں کو مضبوط کرنے کے لئے بڑی مفید چیز ہے۔اس کی بڑی اہمیت ہے۔یہ اتنا بڑا اجتماع ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو کسی نہ کسی کو ہزار پریشانیاں، دکھ اور تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں عام طور پر تکلیف سے محفوظ رکھتا ہے“۔" ابھی پیچھے افریقہ کے ایک ملک میں بعض متعصب عیسائی کیتھولکس کی سازش کے نتیجہ میں ہمارے بعض کلینک بند ہو گئے تھے۔وہاں سے دوستوں نے مجھے گھبراہٹ کے خطوط لکھے۔بہر حال اصل ذمہ داری تو امام کی ہوتی ہے۔دوست تو طبعاً گھبرا جاتے ہیں کہ دو مہینے ہو گئے ہیں، کلینک بند پڑے ہیں۔ڈاکٹروں کو تنخواہ دے رہے ہیں، میل نرسز کو تنخواہ دے رہے ہیں، حکومت کہتی ہے ، آج فیصلہ کریں گے ، کل فیصلہ کریں گے۔میں نے کہا، آرام سے بیٹھیں۔ایک دوست تو بہت زیادہ تیز تھے۔ان سے میں نے کہا، حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی جو تعبیر کی تھی، وہ تم پڑھ لو۔چنانچہ ان کا مجھے خط آیا کہ میں امیر صاحب سے پوچھوں گا کہ وہ کیا تعبیر تھی ؟ اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ سات سال کماؤ گے اور سات سال کھاؤ گے۔میں نے کہا تم سمجھو کہ یہ وہ زمانہ ہے، جو حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت میں اس قوم پر آیا تھا کہ پہلے کمائے ہوئے سے کھانا پڑا تھا۔خدا تعالیٰ نے تمہارے مال میں برکت دی اور خدا تعالیٰ نے جو دیا، اسے بیٹھ کر آرام سے کھائیں گے۔ان کی مخالفتوں کے مقابلہ میں ہمارا کام صبر دکھانا ہے۔وہ سمجھتے کہ دو مہینے نکے بیٹھیں گے، چار مہینے نکے بیٹھیں گے، جب تنخواہیں دیتے دیتے تنگ آجائیں گے تو کہیں گے، کسی اور ملک میں چلے جاتے ہیں۔میں نے کہا، آرام سے بیٹھے رہو، کتنی دیر تک وہ ہمیں ستاتے رہیں گے۔آخر کار ہمارا صبر پھل لایا۔چند دن ہوئے ، خط آیا ہے کہ حکومت نے نو مہینے کے بعد کلینک کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔چنانچہ میرا یہ عزم تھا کہ سوائے اس کے کہ حکومت ان کو حکما اپنے ملک سے باہر نکال دے، ڈاکٹر کو وہاں سے نہیں بلائیں گے۔کیونکہ جب ملک چھوڑنے کا حکم مل جائے تو پھر تو کوئی شخص اس ملک میں رہ نہیں سکتا۔میں نے دوسرے ملکوں کو اطلاع بھی دے دی تھی۔لیکن میں نے کہا، اس سے ورے ورے سال، دوسال، تین سال تک بیٹھے رہو۔اس سے مخالفین کو پتہ لگ جائے گا کہ تم میں کتنی سکت ہے۔وہ مقابلہ کر کے دیکھ لیں گے کہ کسی چیز میں بھی اور کسی میدان میں بھی شکست کھانے کے لئے احمدی پیدا نہیں ہوا۔چنانچہ نو مہینے کے بعد اجازت دے دی۔اس سے ہمیں کیا فرق پڑا؟ لیکن ان کو یہ پتہ لگ گیا کہ اسلام کے ساتھ کوئی آسان مقابلہ نہیں ہے۔840