تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 841
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1972ء غرض عیسائیوں کی سازش ناکام ہوگئی اور ان کو سمجھ آگئی۔انہوں نے ہمارے کلینک کے متعلق عجیب اعتراض کر دیئے تھے۔ایک یہ اعتراض تھا کہ لکڑی کی میز پر ڈاکٹر کیوں آپریشن کرتا ہے؟ اس کے لئے با قاعدہ آپریشن ٹیبل ہونی چاہیے۔بندہ خدا ! اگر ڈاکٹر کے پاس اپنڈے سائنٹس کا ایک مریض درد سے تڑپتا ہوا آئے تو کیا ڈاکٹر اس سے یہ کہے گا کہ جب تک ولایت سے میری ٹیبل نہ آجائے ، اس وقت تک انتظار کرو؟ اس وقت تو زمین کے اوپر لٹا کر بھی آپریشن کر دینا چاہیے۔کیونکہ اس کی تکلیف کو دور کرنا ، دراصل اس کی جان کی حفاظت کرنا ہے۔پھر یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ اگر تم نے ان ڈور مریض رکھنے ہیں تو اگر ہیں مریضوں کی گنجائش ہے یا نہیں چار پائیاں ہیں تو ہیں نرسیں رکھو۔خواہ کسی وقت وہاں بارہ مریض ہی کیوں نہ ہوں۔حالانکہ یہ معیار تو امریکہ میں بھی نہیں ہے۔چنانچہ کہہ دیا کہ فی مریض ایک نرس رکھو۔تب تمہیں اجازت دیں گے۔مگر انہوں نے یہ اعتراض کرتے ہوئے ، یہ نہ سوچا کہ ان کے اپنے بڑے بڑے ہسپتالوں میں تو ایک وقت میں تین تین، چار چار نرسیں ہی کام کر رہی ہوتی ہیں۔اور ہم سے یہ مطالبہ کر رہے ہو کہ فی مریض ایک نرس رکھو۔لیکن میں نے اپنے دوستوں سے کہا، ٹھیک ہے، ان سے جنگ ہے، چلنے دو، اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔ہم نے جس سہارے کو پکڑا اور جس سہارے پر ہمارا تو کل ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ہم تو ایک ادنی خادم ہیں۔ہم تو خدا کے بڑے لکھے مزدور ہیں۔وہ پہلے بھی فضل فرماتا اور ہم نالائقوں سے کام لیتا رہا ہے، اب بھی فضل فرمائے گا۔تاہم اپنی طرف سے ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہیے۔روحانی ہتھیاروں سے ساری دنیا کا مقابلہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دوست اس بات کو کبھی نہ بھولا کر ہیں کہ ہمارے سامنے ایک عظیم الشان مقصد ہے، یعنی ساری دنیا میں غلبہ اسلام۔اس مقصد کے حصول میں ساری توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ذراذراسی بات پر آپس میں نہیں الجھنا چاہیے۔کیونکہ میدان جنگ میں تو ہر قسم کے الجھاؤ، ہر قسم کی پریشانیوں کے باوجود بھی جذبہ اخوت قائم رہتا ہے۔مطبوعه روزنامه الفضل 21 مارچ 1973ء) 841