تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 823 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 823

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اگست 1972ء قدرتوں کے نشان اور اس کے پیار کے جلووں کو دیکھتے رہیں گے۔اس واسطے عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے پیار اور اس کے فضلوں کو جذب کرو تا کہ دشمنوں کی طرف سے جو بھی فتنہ کھڑا ہو، وہ کامیاب نہ ہو۔ہمیں ان کی ہلاکت سے کوئی غرض نہیں ہے اور نہ ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ ہلاک ہوں۔ہم تو ان کی اصلاح چاہتے ہیں۔ہم ان کے مقابلے پر کھڑا ہونا نہیں چاہتے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ ان کے جو منصوبے ہیں، وہ خَيْرُ الْمَاكِرِین تو ڑ کر رکھ دے۔وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور جماعت احمدیہ کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اسلام کو غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھاتی چلی جائے۔احباب اس کے لئے دعا کرتے رہیں۔وو پس ہمارے ہر چھوٹے اور بڑے خصوصاً نو جوانوں کو یہ بات کبھی بھولنی نہیں چاہئے کہ آج دنیا میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر ، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اور اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کی خاطر جو جنگ لڑنی ہے، وہ کوئی معمولی جنگ نہیں ہے۔وہ بڑی زبر دست جنگ ہے۔دہریت ( جسے ہم اشتراکیت اور کمیونزم بھی کہتے ہیں۔دنیا کی آدھی آبادی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ حصے پر چھائی ہوئی ہے۔دوسری طرف مذہب کے نام پر زندہ رہنے والی قو میں خواہ کتنی ہی کمزور ایمان والی کیوں نہ ہوں یا بد مذہب جن میں کسی نبی کی تعلیم کا ایک معمولی ساعکس نظر آتا ہے اور اسے بھی وہ اب بھول چکے ہیں، لیکن بہر حال وہ لامذہب نہیں کہلا سکتے۔( بد مذہب کی اصطلاح نئی نہیں ہے، اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمایا ہے۔انہوں نے آدھی دنیا کی دولت سنبھالی ہوئی ہے۔اور دنیوی لحاظ سے ان کی بہت بڑی طاقت ہے۔اور اسلام دشمنی میں بھی یہ لوگ بہت نمایاں ہیں۔جس طرح آج جو شخص بھی مفسدانہ نعرہ لگانا چاہتا ہے، وہ مرزائیت کے خلاف نعرہ لگا دیتا ہے۔حالانکہ مرزائیت تو دنیا میں ہے ہی کہیں نہیں۔یہ تو احمدیت ہے۔لیکن بہر حال فساد بر پا کرنے کی نیت سے مرزائیت کے خلاف نعرہ لگ جاتا ہے۔لیکن جو باہر کی دنیا ہے، یعنی اسلام سے باہر کی دنیا، وہ جب بھی شرارت کرنا چاہیں، وہ اسلام کو ملوث کرتے اور اس کے خلاف باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک عیسائی، جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے کلی طور پر علیحدہ اور جدا ہو چکا ہے، اس کے دل میں عیسائیت سے کوئی پیار نہیں رہا، وہ بات بات میں کہے گا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق تمہیں بات کرنے کا حق تب پہنچتا، جب تم حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان رکھتے۔کوئی ان سے پوچھے کہ عیسائیت پر سے ایمان تو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا، اب اسلام کے خلاف یہ دلچپسی تمہارے اندر کہاں سے پیدا ہوگئی ہے کہ تم بات بات میں اسلام کے خلاف جھوٹ بولنے لگے ہو؟ 823