تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 797 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 797

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1971ء نہیں۔صاف بات ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ امام صلوۃ تم مقر نہیں کرو گے میں مقرر کروں گا۔چنانچہ آپ نے مقرر کر دیا اور مقرر اس طرح کیا کہ آپ نے فرمایا، جس کو زیادہ قرآن کریم آتا ہو، وہ امامت کرایا کرے۔اب مہدی آگیا۔اس نے اللہ سے قرآن کریم کی تفسیر سیکھی اور ہمیں سکھا دی۔تمہیں تو نہیں نہ آتی وہ تفسیر؟ کہنے لگا، نہیں آتی۔میں نے کہا، چونکہ ہمیں زیادہ قرآن کریم آتا ہے، اس لئے تم ہمارے پیچھے نماز پڑھا کرو۔ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام بنا گئے ہیں۔یہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی کیونکہ دماغ میں کوئی تعصب نہیں تھا۔یوں بھی وہ بڑے بے تعصب لوگ ہیں۔پس قرآن کریم کی تفسیر جو آج کے مسائل بھی حل کرتی ہے اور ایسی تفسیر ہے، جو کل کے مسائل کے حل کرنے کے علوم کا بیج بھی اپنے اندر رکھتی ہے، اس کا ترجمہ ہونا چاہئے۔صرف سندھی میں کیوں؟ جیسا کہ کنری نے تجویز کیا۔پشتو میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے ، فارسی میں بھی ہونا چاہئے ، پنجابی میں بھی ہونا چاہئے۔پنجابی صرف پنجابی کے جوش میں آکر کہہ دیں کہ ہمیں اردو نہیں آتی تو الگ بات ہے۔ورنہ ہر پنجابی کو اتنی اردو ضرور آتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان کتب کی زبان سمجھ لے جو دعوے کے بعد لکھی گئیں۔دعوے سے پہلے علماء آپ کے مخاطب تھے اور وہ بڑی ثقیل زبان بولا کرتے تھے۔اگر ان کی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بات نہ کرتے تو کہتے تمہیں تو زبان ہی نہیں آتی ، تم نے ہمارے ساتھ کیا مقابلہ کرنا ہے۔اس واسطے ایسی زبان کو استعمال کیا ہے اردو میں بھی، فارسی میں بھی اور عربی میں بھی حتی کہ عرب میں رہنے والے بڑے بڑے عرب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی عبارتیں پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔کیونکہ ان پر خدا تعالیٰ نے یہ رعب ڈالنا تھا کہ یہ میرا شاگرد ہے، تم اس پہلو سے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پھر ایک دن خدا نے کہا کہ جا میرے بندوں کو ، جنہیں دنیا عوام کہتی ہے، اکٹھا کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لے آ۔جب مخاطب عوام ہو گئے تو زبان بدل گئی۔اتنی تبدیلی ہوئی کہ اگر ماہر زبان کے سامنے دو کتا ہیں بتائے بغیر رکھی جائیں تو وہ بڑا ہی ثبوت اپنی مہارت کا دیتے ہوئے کہے گا کہ یہ دونوں کتابیں ایک شخص کی نہیں۔پس اتنا فرق ہے، زبان میں۔کیونکہ مخاطب بدل گیا تھا۔آپ کا استاد اللہ تعالی تھا اور یہ تو کسی کو ہی موقع ملتا ہے۔پس ان کتب کے ترجمے ہونے چاہئیں۔لیکن یہ محدود وفکر کہ سندھی میں ترجمہ ہونا چاہئے ، مجھے پسند نہیں آئی، ساری زبانوں میں ہونا چاہئے۔اور اس کے لئے ہمیں ابھی سے کوئی مستقل سب کمیٹی مقرر کر دینی چاہئے۔کیونکہ زیادہ تفصیل میں تو ہم اتنی بڑی مجلس میں بحث نہیں کر سکتے۔لیکن وہ کمیٹی آکر بتایا 797