تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 796
ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1971ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور وہاں قائم رکھنا ہے بلکہ زمانہ کے ساتھ ساتھ آگے بھی بڑھنا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر انسان تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پہنچا دیں۔یہ صحیح ہے کہ ترجمہ بہر حال ترجمہ ہے۔اصل سے تو وہ کسی طور پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن ان کو جب ترجمہ پڑھ کر اس بیان کا چسکا پڑ جائے گا، جس کا کہ وہ ترجمہ ہے تو پھر کہیں گے کہ ہمیں اردو سکھاؤ تا کہ ہم اصل کو بھی پڑھیں۔باہر سے آنے والوں میں جنہوں نے اردو سیکھی ہے اور جنہوں نے صحیح اردو نہیں سیکھی ، ان کا آپس میں بڑا فرق ہے۔شروع میں یہ رو جاری ہوئی تھی۔میرے بچپن کے زمانے میں جب کہ میں مدرسہ احمدیہ میں تھا، انڈونیشیا اور جاوا، سماٹرا اسے دس، بارہ لڑکے آگئے تھے۔ان میں سے ابو بکر بھی تھے، جواب پیچھے جاوا، سماٹر امشنز کے انچارج بھی رہے ہیں۔وہ میرے ہم عمر تھے۔شاید ایک، دو سال کا فرق ہوگا۔وہ اس طرح اردو بولتے تھے، جس طرح کے ہمارے ملک کے اچھے اردو دان۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا تھا کہ اچھے دماغ زبان کے لحاظ سے بھی مل گئے۔عربی ان کی بڑی اچھی تھی اور وہ بڑے اچھے مبلغ ثابت ہوئے لیکن جو باہر سے پڑھنے کے لئے آتے ہیں اور اردو نہیں سیکھتے ، ان پر یہاں آ کر تھوڑا سا بلکا سارنگ چڑھ جاتا ہے۔جس طرح کہ رنگ ختم ہورہا ہوتو بعض دفعہ اور پیسے ما لک خرچ نہیں کرنا چاہتا تو مزدور کو یہ کہتا ہے کہ جو رنگ باقی تھوڑا سا بچ گیا ہے، اس میں بہت سا پانی ملا کر میرے غسل خانے میں رنگ کر دو۔اس طرح ان کے اوپر ایک ہلکا سارنگ تو بہر حال چڑھتا ہے۔لیکن اس میں وہ مزا نہیں ہے، جو اسلام کا پورا نورانی رنگ رکھتا ہے۔چمک اور بشاشت اور رعب اور غلبہ کی شعاعیں اس کے اندر سے نکلتی ہیں ، وہ رنگ ان پر نہیں چڑھتا۔ایک دفعہ ہمارے کالج میں اردو کا نفرنس ہوئی تھی۔اس موقع پر میں نے ان کو کہا تھا کہ جماعت احمدیہ کا زبان اردو پر یہ احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی کتب پڑھنے کی خاطر ساری دنیا کی قوموں میں اردو پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔یعنی ایک حصہ میں تو اب ہے اور کچھ کو بعد میں احمدیت کی وجہ سے شوق ہو جائے گا۔عربی تو ہے ہی ہماری زبان کیونکہ وہ قرآن کریم کی زبان ہے۔اور ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے۔اس لئے وہ تو ہماری ہی زبان ہے۔وہ ہمیں آتی ہو یا نہ آتی ہو، اپنی زبان سے زیادہ پیار ہے، ہمیں عربی سے۔لیکن اس کے بعد اردو ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی ایسی تفسیر ہمیں تو کہیں نظر نہیں آئی۔افریقہ میں بڑے اچھے لوگ ہیں۔ایک نوجوان صحافی جو احمدی نہیں تھا، مجھ سے پوچھنے لگا کیا بات ہے، ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، آپ ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا بات تو کچھ 796