تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 764
اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1971ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آرام سے سنتا ہوں) اور مسکرا کر کہا کہ جس ہستی سے میں تجارت کر رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ وہ مجھے دس فیصد سے کہیں زیادہ نفع دے گا۔میں تو اس سے 300 فیصد نفع کی امید لگائے بیٹھا ہوں۔اس لیے اگر آپ 300 فیصد سے زیادہ نفع کسی اور جگہ سے لے دیتے ہیں تو پھر ہم تھوڑا سا پیسہ وہاں بھی لگا دیں گے۔مگر یہاں 300 فیصد کون دیتا ہے؟ خیر وہ تو ہوا۔جماعت سے میں نے کہا تھا کہ خرچ کر دینا ہے۔افریقہ میں بھی یہی کہا تھا۔لیکن مجھے پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ” تجارت کا محاورہ ویسے ہی استعمال نہیں کیا۔جو اللہ تعالیٰ سے تجارت کرتا ہے، وہ گھاٹے میں کس طرح رہ سکتا ہے؟ صرف ایک مثال دے دیتا ہوں۔اس کی تفصیل میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح فضل کیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ وہ ہماری کمر پر ہاتھ رکھیں اور ہمیں آگے ہی آگے تیزی سے چلاتے چلے جائیں۔مغربی افریقہ کے ایک ہیلتھ سنٹر (جس کی میں مثال دے رہا ہوں اور وہ دوسروں سے نسبتاً اچھا ہے) کے جاری کرنے پر ہم نے ڈیڑھ ہزار پونڈ خرچ کیا۔( یہ سب خرج بیرون پاکستان کی جماعتوں کے چندہ سے کیا جاتا ہے۔دس فیصد کے لحاظ سے ڈیڑھ ہزار پونڈ پر میں ڈیڑھ سو پونڈ سال کا نفع ہونا چاہیے تھا۔یعنی اگر ہم یہی ڈیڑھ ہزار پونڈ کسی اچھی کمپنی میں لگا دیتے تو سال کے بعد وہ کمپنی ہمیں ڈیڑھ سو پونڈ نفع دے دیتی۔مگر اللہ تعالیٰ نے ڈیڑھ ہزار کے اوپر ہمیں پانچ مہینے کے بعد جو نفع دیا، وہ چھ ہزار پونڈ ہے۔پھر یہ تو ایک مالی چیز ہے۔اصل چیز عوام کی خدمت ہے۔اس سے وہاں ایک جوش اور پیار پیدا ہو رہا ہے۔(جوش کام کے لیے اور پیار ان خادموں کے کام کے ساتھ ) اصل بنیادی چیز اسلام ہے، جس کے ساتھ ہم پیار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اور جس کے نتیجے میں خدائے واحد و یگانہ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار پیدا ہو گا۔عیسائی باشندے ہیلتھ سنٹرز کے لیے ہمیں زمینیں دے رہے ہیں اور پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ جلد ہسپتال کھولے جائیں۔اور ابھی وقت بھی کیا ہوا ہے۔میں پچھلے سال مئی میں افریقہ سے واپس آیا تھا اور اس طرح قریباً چودہ مہینے ہوئے ہیں۔اور وعدہ میں نے یہی کیا تھا کہ اگلے پانچ سال کے لیے سکیم بنار ہے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کم از کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں خرچ کردو۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء گیمبیا میں مجھ پر ظاہر ہوا تھا۔اور یہ اس وقت ظاہر ہوا تھا، جب میرے اس کام کے لیے لاکھ آنہ بھی نہیں تھا۔لیکن مجھے کوئی گھبراہٹ اس لیے نہیں ہوئی کہ جب خدا تعالیٰ جو تمام دولتوں کا مالک ہے، وہ کہتا ہے تو وہ مجھے دے گا بھی۔چنانچہ میں نے لندن آکر بھی یہی اعلان کیا تھا اور یہاں آکر بھی یہی اعلان کیا کہ مجھے یہ فکر نہیں 764