تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 763
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1971ء نصرت جہاں ریز روفنڈ ایک اور سنگ میل ہے خطاب فرمودہ 15 اکتوبر 1971ء برموقع سالانہ مرکزی اجتماع مجلس انصاراللہ وو خلیفہ وقت کا کام ہے، وہ جماعت سے محنت کرواتا ہے۔دوست ایک قربانی دیتے ہیں تو وہ ان سے ایک بڑی قربانی کا مطالبہ کر دیتا ہے۔چنانچہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ پچھلے چند سالوں میں اتنا Momentum ( مومینٹم ) یعنی غلبہ اسلام کی شاہراہ پر ہماری جو حرکت ہے، اس میں اتنی شدت پیدا ہو چکی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔جس دن فضل عمر فاؤنڈیشن شاہراہ غلبہ اسلام پر حرکت میں آئی تھی ، اس کی نسبت بہت زیادہ حرکت جماعت کے دوسرے اداروں میں پیدا ہو چکی ہے۔مثلاً پچھلے سال نصرت جہاں آگے بڑھو کے لئے جس مال کی ضرورت تھی، اس کی خاطر میں نے نصرت جہاں ریز روفنڈ جاری کیا۔چنانچہ اس مالی تحریک کے علاوہ وصیت کے چندے، عام چندے، تحریک جدید کے چندے، وقف جدید کے چندے، خدام الاحمدیہ کے چندے، انصار اللہ کے چندے اور لوکل جماعتوں کے چندے تھے۔اور پھر ان کے علاوہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے 33لاکھ روپیہ دے کر دوست بظاہر تھکے ہوئے تھے۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی تھی اور خود راہنمائی فرمائی تھی کہ تم جماعت سے قربانی لو میری یہ قوم بشاشت سے قربانی دیتی چلی جائے گی۔چنانچہ وہ لوگ جو دنیا کی نگاہ میں تھکے ہوئے سمجھے جاتے تھے، انہوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن سے کہیں زیادہ مال نصرت جہاں ریزروفنڈ میں دے دیا۔" جس وقت مال آتا ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے ذہن ہوتے ہیں۔مسلمانوں میں بھی تاجرانہ ذہن پایا جاتا ہے۔بنیا ہونا صرف ہندو کی اجارہ داری نہیں ہے۔مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں ، جو بڑے تاجرانہ ذہن رکھتے ہیں۔ایسے تاجرانہ ذہنوں کو فکر پڑ گئی کہ پیسہ آ گیا ہے، اس کو تجارت میں لگنا چاہیے، ورنہ یہ بڑھے گا نہیں۔میرے پاس ایک سے زیادہ دوست آئے۔انہوں نے کہا کہ روپیہ جمع ہے، اسے تجارت میں لگائیں۔آج کل بعض کمپنیاں اچھی ہیں۔اگر وہ مل جائیں اور ان میں پیسہ تجارت میں لگایا جائے تو دس فیصد تک نفع مل جاتا ہے۔میں نے ان کی بات سنی ( میں ہر ایک کی بات 763