تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 744 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 744

ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بلکہ اصل سے ہوگا۔مثلاً یہ نہیں ہو گا کہ کشتی نوح کا ترجمہ انگریزی میں ہو، پھر انگریزی سے ترجمہ کیا جائے جرمن زبان میں۔اور پھر جرمن زبان سے ترجمہ کیا جائے فرانسیسی زبان میں۔اور فرانسیسی زبان سے ماریشس میں اپنی زبان بولی جاتی ہے، یعنی ان کی اپنی dialogue ( ڈائیلاگ ہے، اس میں ترجمہ کیا جائے۔پھر یہ ماریشس کی جو مقامی زبان ہے، اس کے ترجمہ سے آگے سواحیلی ترجمہ ہو۔اس طرح ہیں زبانوں میں ترجمہ کرتے کرتے شاید وہ کچھ اور چیز بن جائے، اصل غائب ہو جائے۔اس واسطے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جو اصل متن ہے، اس سے ہر زبان میں ترجمہ ہو۔ترجمے پر سے دوسرا ترجمہ نہ ہو۔اور اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ساتھ متن لگایا جائے۔بعض زبانوں کے لئے عارضی طور پر وقتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔مثلاً اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے والے تو مل گئے لیکن اگر اردو سے جرمن زبان میں ترجمہ کرنے والے نہ ملیں تو اس کے لئے یہ شرط ہو کہ ایک بورڈ بیٹھے، جوار دو جانتا ہو اور وہ انگریزی زبان سے جرمن میں جو تر جمہ ہوا ہے، اس کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے۔انگریزی ترجمے سے نہیں بلکہ اصل متن سے۔بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو مثلا ترجمہ نہیں کر سکتے لیکن ترجمے کی غلطی نکال سکتے ہیں۔تو ایسے لوگ پھر یہ تسلی کریں کہ جرمن زبان میں جس نے ترجمے سے ترجمہ کیا ہے، وہ اصل متن کے ساتھ ملتا ہے یا نہیں۔اور جب تک اس کی تصدیق نہ ہو، اسے شائع نہ کیا جائے۔پھر یہ ہے کہ اس سے عربی کے ساتھ محبت پیدا ہوگی۔جب میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا، اس وقت ایک انگریز نو مسلم احمدی تھوڑی بہت اردو جانتا تھا اور وہ الفضل باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔تو اگر ساتھ ترجمہ ہو گا تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اردو پڑھنے کا شوق پیدا ہو گا۔وہ اردو سیکھیں گے، مقابلہ کریں گے ، لفظ اٹھائیں گے اور اس طرح اپنی محبت کا اظہار کریں گے۔بہر حال ترجمہ ضروری بھی ہے اور ترجمے میں احتیاط بھی بڑی ضروری ہے۔ترجمہ صحیح ہونا چاہیے۔یہ نہ ہو کہ مفہوم ہی بدل جائے۔البتہ متن کے بغیر اجازت نہیں ہے“۔کل میں نے مغربی افریقہ میں نائیجیریا کے شمال میں زنانہ سکول کے اجراء کے سلسلہ میں ذکر کیا تھا۔اس بارہ میں لجنہ اماءاللہ کی طرف سے یہ یادداشت آئی ہے کہ 44ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے گولڈ کوسٹ (اب غانا کہلاتا ہے۔) میں سالٹ پانڈ کے مقام پر زنانہ سکول کھولنے کے فیصلے کا اعلان فرمایا تھا۔اور اس سلسلہ میں لجنہ اماءاللہ کے ذمہ چار ہزار روپے کی رقم ڈالی تھی۔اور لجنہ اماءاللہ نے یہ رقم قلیل عرصہ میں جمع کر کے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دی تھی۔معلوم نہیں، کیا وجوہات پیش آئیں ، غالباً تھوڑے عرصہ کے بعد ہجرت کرنی پڑی اور شاید اس وجہ سے یہ سکول جاری 744