تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 735
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء ہیں۔ان میں ہر قسم کی چیزیل جاتی ہے۔یعنی چنے کے دانے سے لے کر پچاس ہزار کے ہیرے تک۔غرض ہر قسم کی چیز وہاں مل جاتی ہے اور یہ اسٹور کہلاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ خواب میں اس قسم کے ایک اسٹور میں ایک بکس ہے، جس میں پلاسٹک کے تھیلوں میں بیچنے کے لئے کچھ تصویریں رکھی ہوئی ہیں۔میں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ بڑی بڑی تصویریں ہیں۔ان میں سے ایک کو میں نے اٹھایا تو اس میں میرے مغربی افریقہ کے دورے کی تصاویر تھیں۔یعنی بڑے بڑے سائز کی تصاویرہ یورپ کی دکانوں پر بک رہی تھیں۔غرض یہ چند مثالیں میں نے بیان کی ہیں۔اللہ تعالیٰ جب بشارت دیتا ہے، تب بھی ذمہ داری ڈالتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں بھی تدبیر کرنا، پھر بھی انسان کے ذمہ ہوتا ہے۔یعنی انسان تدبیر کرے، اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔دراصل بشارت تو انسانی تدبیر، جد و جہد اور دعا کا نتیجہ بتارہی ہوتی ہے۔یعنی یہ تو نہیں ہوسکتا کہ بشارت ملنے پر انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ر ہے اور پھر بھی وہ بشارت پوری ہو جائے۔مثلاً اگر کسی شخص کو یہ کہا جائے کہ میٹرک میں تم فرسٹ آؤ گے تو وہ کہے گا کہ ٹھیک ہے، میں میٹرک میں فرسٹ آؤں گا ، اس لئے میں میٹرک کا امتحان نہیں دیتا، غلط ہے۔یہ تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس کو یہ خوشخبری ملے کہ میٹرک میں فرسٹ آؤگے، اسے میٹرک کا امتحان بہر حال دینا پڑے گا۔اور میٹرک کے امتحان کے لئے انتہائی تیاری کرنی پڑے گی۔تب وہ خوشخبری پوری ہوگی۔پس ہر بشارت انجام بتارہی ہوتی ہے۔اور ہر بشارت کا جتنا بڑا انجام ہے، اس سے پہلے جتنی عظیم کوشش اور جتنا عظیم مجاہدہ چاہئے، وہ ہونا چاہیے۔جتنی عظیم تدبیر کی ضرورت ہے، اتنی عظیم تدبیر ہونی چاہئے۔جتنی دعاؤں کی ضرورت ہے، وہ دعائیں ہونی چاہئیں۔پس اس سلسلہ میں بہت سی بشارتیں ملی ہیں، جن میں سے بعض اس وقت میں نے دوستوں کو سنائی ہیں ، بہت سوں کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔مگر یہ بشارتیں بتا رہی ہیں کہ ان ایام میں جماعت احمدیہ پر ایک مخصوص ذمہ داری یہ بھی عائد ہوگی کہ وہ دعا اور تدبیر کو کمال تک پہنچائے اور خود کوان بشارتوں کا وارث بنائے، جو اللہ تعالیٰ نے تازہ بتازہ جماعت کو دی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔افریقہ کا یہ براعظم بھوکا بھی ہے اور پیاسا بھی ہے اور مظلوم بھی ہے۔سینکڑوں سال سے اسے ذلیل بھی کیا گیا اور اس کی عزت بھی چھینی گئی ہے۔اس لئے یہ ان کا حق ہے کہ ان کو انسانیت کے اس مقام پر لا کھڑا کیا جائے کہ جو مقام عزت اور شرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے افریقہ کے ایک نمائندہ حضرت بلال کو دیا تھا۔فتح مکہ کے دن ان قریش سرداروں کو جو اپنے ایک عظیم بھائی کے سامنے بھی گردن اکڑا کر چلتے اور اس پر ظلم کرتے تھے ان کو یہ آواز دی گئی تھی اور ان کو اس طرف بلایا گیا تھا کہ آج بلال کا جھنڈا 735