تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 736
تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تمہارے غرور کو توڑنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے۔جولوگ حضرت بلال کے جھنڈے کے نیچے آکر جمع ہو جائیں گے، ان کی جانیں اور ان کی عزتیں محفوظ ہو جائیں گی۔یہ وہ اعلیٰ مقام ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افریقہ کے ایک حبشی کو دیا تھا۔لیکن دنیا نے اس براعظم افریقہ کو وہ مقام نہیں دیا۔اور وہ خود بھی اپنے مقام کا علم نہیں رکھتا تھا۔اور یہ اس قوم کی عجیب بدقسمتی ہے۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان کو یہ بتائیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ، جو آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔تب چھوٹے جھنڈے تمہارے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور پھر مغرور روس اور متکبر امریکہ کو بھی انشاء اللہ تمہارے جھنڈے کے نیچے پناہ لینی پڑے گی۔پس یہ وہ چیز ہے، جو ہم نے اہل افریقہ کو دینی ہے۔آپ دعا کریں، اللہ تعالیٰ انہیں سمجھ عطا کرے اور وہ خود اپنی عزت اور اپنے مرتبہ اور اپنی حرمت اور اپنے شرف کو پہچانے لگیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اسلام کا خوبصورت دین اور وں کے لئے بھی اور ان کے لئے بھی لے کر آئے تھے، اس کو وہ قبول کریں۔دنیا کی عزتیں اور دنیا کی وجاہتیں اور دنیا کے شرف کو بھی وہ حاصل کریں۔لیکن اس سے بھی کہیں بڑھ کر وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اپنے لئے وہ پیار دیکھیں تا کہ دنیا اور آخرت کے خزانے ان کول جائیں۔اے خدا! تو انہیں اس کی سمجھ عطا فرما۔آمین۔میں نے یہ مختلف باتیں دوستوں کے سامنے اس لئے رکھی ہیں کہ ان دنوں میں خاص طور پر اور یہاں سے جانے بعد بھی دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس دنیا میں جو تیز حرکت جاری کی ہے، اس کے نتیجہ میں ہماری جو ذمہ داریاں ہیں، اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں اپنے ظرف اور طاقت کے مطابق ان کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ ہم تھوڑا سا کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے بے انتہا نتائج نکال دیتا ہے۔ہمیں تو یہ کہا گیا ہے کہ مقدور بھر تھوڑی سی قربانی کرو اور آکر انعام لے جاؤ۔کام تو دراصل اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہی کر رہے ہیں اور وہ کرتے چلے جائیں گے۔لیکن اگر ہم نے آج اسلام کی ضرورت کے وقت خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ موڑا تو پھر ہمارا نہ اس دنیا میں کوئی ٹھکانا ہوگا اور نہ اس دنیا میں۔اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے ہمیں محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ اپنی رضا کی جنتیں ہمیں یہیں عطا کر دے۔نہ ختم ہونے والی جنتیں۔جو ہم اپنے ساتھ ہی اس دنیا میں لے جائیں۔اللہ تعالی افریقن ممالک کو بھی اور یورپین ممالک کو بھی، غرض جہاں جہاں بھی انسان بستا ہے، ان کو تو فیق عطا کرے کہ وہ اسلام کے 736