تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 724
تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء 66 تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور پھر جب انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دکھائی گئی تو وہ بے اختیار بول اٹھے یہ تو سچا ہے۔چنانچہ وہ اس وقت سے باقاعدہ ایک مبلغ کی طرح وہاں احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔انہوں نے کتابیں ، جو بھی وہاں میسر آسکیں ، وہ پڑھ لیں ہیں۔ہمارے احمدیوں کے ذہن بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے عجیب بنائے ہیں۔اس احمدی دوست نے یہ بھی لکھا کہ ان کی سوسال کی عمر ہے اور علاقہ بھر میں بڑے اثر ورسوخ کے مالک ہیں۔احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔اس لئے میں تو یہ دعائیں کر رہا ہوں کہ اے خدا! میری عمر میں سے دو، چار سال ان کو دے دے تا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہیں اور احمدیت کی تبلیغ کریں۔میں اس کے اس جذبہ سے بہت لطف اندوز ہوا۔ایک اور عظیم واقعہ پچھلے حج کے موقع پر رونما ہوا۔اس پر ہمیں رشک بھی آتا ہے کہ ایک بیرونی ملک پاکستان ( جماعت احمدیہ کے مرکز) سے سبقت لے گیا۔کراچی کے ایک احمدی دوست نے مجھے بتایا کہ حج کے دنوں میں میں خانہ کعبہ کے اندر ایک حبشی نوجوان کھڑا ہوا اور اس نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت شروع کی۔اور اس طرح بہت سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھیر لی۔پھر اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کرنی شروع کی اور اس تفسیر میں اس نے بتایا کہ منعم علیہ گروہ کون سا ہوتا ہے؟ اور اس کی علامات کیا ہیں؟ اور پھر اس کے بعد اس نے کہا کہ اس منعم علیہ گروہ کا تعلق مسیح موعود اور مہدی معہود سے ہے۔پھر اس نے کہا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے روپ میں مبعوث ہو گئے ہیں۔اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا) میں آپ کی توجہ اس طرف پھیرتا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب مہدی ظاہر ہو تو اسے میر اسلام پہنچانا۔پس اے مکہ معظمہ میں جمع ہونے والو! آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ خدا کے اس مہدی کو سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں۔پندرہ ، بیس منٹ کی اس تقریر میں اس نے خانہ کعبہ میں حج کے دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بیان کی اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کو تبلیغ کا جنون ہے۔وہ نائیجیریا کا رہنے والا ہے۔وہاں سے تو کوئی رپورٹ نہیں آئی۔لیکن ایک کراچی کے دوست، جنہوں نے اس سال حج کیا ہے، بتاتے ہیں کہ انہیں اس شخص کی وجہ سے کیا فائدہ ہوا؟ وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں اس سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔چنانچہ ہم اس سے ملنے گئے ، اس سے باتیں کیں۔پھر ہم نے اس سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم اس سے اور باتیں کرنا چاہتے ہیں، اس لئے ہمیں وہ کل کوئی اور وقت دے۔اس احمدی نوجوان نے کہا مجھے افسوس ہے، میں آپ کو وقت نہیں دے سکتا کیونکہ میں بہت مصروف ہوں۔اور میری مصروفیت یہ ہے کہ نائیجریا سے جو مختلف ٹولیاں حج کرنے کے لئے آتی ہیں، ان کی کھوج لگا کر ان کو تبلیغ کرنا چاہتا ہوں۔724