تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 717 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 717

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم وو واقفین زندگی سے بیاہ اقتباس از خطبه نکاح فرمودہ 04 دسمبر 1970ء خطبہ نکاح فرمودہ 04 دسمبر 1970ء قرون اولیٰ میں ، خصوصا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ، منافقین کے علاوہ سبھی آدمی واقفین زندگی تھے۔وہ اپنا کام بھی کرتے تھے لیکن جب اسلام پر حملہ ہوتا تو وہ بے سروسامانی کے باوجود اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار بھی رہتے تھے۔اس لئے اس وقت اس آدمی کے دل کی خواہش ، جو اپنی بچی کو ایک واقف زندگی سے بیاہنا چاہتا ہو، پوری ہو جاتی تھی۔اس میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔لیکن اب وہ زمانہ بدل گیا۔اس وقت جماعت احمدیہ میں ایسے ہزاروں خاندان ہیں، جو واقف ہی ہیں۔خواہ انہوں نے ظاہری طور پر وقف کیا ہوا ہے یا نہیں۔میں ایسے سینکڑوں دوستوں کو جانتا ہوں، جو اپنے کاموں کے علاوہ پانچ پانچ ، چھ چھ ، سات سات اور آٹھ آٹھ گھنٹے روزانہ جماعتی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔اب جس آدمی نے اپنی زندگی با قاعدہ وقف کی ہوتی ہے، ہو سکتا ہے بعض دفعہ وہ بے توجہی کے نتیجہ میں روزانہ جتنا کام کرتا ہے، یہ اس سے زیادہ کام کر رہے ہوں۔لیکن جو نو جوان نسل ہے، ان کے متعلق حسن ظن بھی ہوتا ہے اور دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں سے اکثر کے دل میں (سب) کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا) یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان کی بچیاں اگر خاندان سے باہر جاتی ہیں تو واقف زندگی کے ساتھ بیاہی جائیں۔انہیں دنیوی دولت اور مال کی طمع نہیں ہوتی بلکہ دل کے اخلاص کی دولت کی خواہش ہوتی ہے۔لیکن مشکل یہ ہوتی ہے کہ پوری طرح تسلی نہیں ہو پاتی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔اس لئے اس موقع پر میں دوستوں سے یہ کہوں گا کہ بہترین تحفہ، جو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بچی کے نکاح کے موقع پر اس کو پیش کر سکتے ہیں، وہ یہ دعا ہے کہ خدا کرے، وہ خود بھی اور اس کا ہونے والا خاوند بھی حقیقی وقف کی روح کے ساتھ زندگی گزارنے والا ہو۔( مطبوعه روزنامه الفضل 13 جنوری 1972 ء ) 717