تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 56

خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 02 اپریل 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم سے ہی آپ نے اپنے اس بچے کی تربیت ایسے رنگ میں شروع کی کہ اس نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف سمجھی۔اور جب ذبح عظیم کا وقت آیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی قربانی آپ سے لینی چاہی تا دنیا کے لئے اور خصوصاً آپ کی نسل کے لئے ایک بے مثال نمونہ قائم ہو جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس بچے ( یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام) نے ، جس کی عمر کم و بیش 14-13 سال کی تھی، ایک سیکنڈ ہچکچاہٹ کے بغیر اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ قربانی کی کہ آپ اپنے اس بچہ کو ایک وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں۔اور بتایا کہ اس کی تربیت ہم خود کریں گے۔تاکئی ہزار سال بعد جب دنیا میں ایک امی اور معصوم نبی پیدا ہو تو دنیا یہ اعتراض نہ کر سکے کہ ایک امی خدا تعالیٰ کی تربیت کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس پر کامل تو کل کرتے ہوئے، اپنے اکلوتے بچے کو ایک ایسے مقام پر چھوڑ دیا، جو اس وقت کلیۂ غیر آباد تھا۔بلکہ اس وقت آبادی کے قابل بھی نہیں تھا۔کیونکہ وہاں پانی نہیں تھا۔اور بظاہر حالات اس جگہ دونوں ماں بیٹے ( یعنی حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہما السلام ) کا زندہ رہنا ناممکن تھا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں ذرا بھر بھی خیال نہیں تھا کہ اس ماحول میں میرا بچہ بھوک اور پیا سامر جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ میں اس نسل میں روحانیت کا ایک چشمہ جاری کر رہا ہوں، ایک ظاہری چشمہ بھی وہاں جاری کر دیا۔جس کو اب ہم زمزم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اور اس طرح ان دونوں کی زندگی کے سامان پیدا کر دیئے۔کیونکہ گوصرف پانی سے ہی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔مگران علاقوں میں جہاں پانی نکل آئے، آبادیاں ہو جاتی ہیں اور اس طرح کھانے کا بھی انتظام ہو جاتا ہے۔پس آپ کی جسمانی تربیت کی کلیہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لے لی۔اور اس طرح یہ ثابت کر دیا کہ وہ باتیں جو انسان کے اختیار میں نہیں ، خدائے بزرگ و برتران پر بھی قادر ہوتا ہے۔غرض اس خاندان نے وقف اور وفاداری (اسلمت لرب العالمین کی ایک زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی مثال اس دنیا میں قائم کر دی۔اور آپ کے اسوہ کو یا درکھنے ، زندہ رکھنے اور قائم و دائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ میں اس عید الاضحیہ کو جاری کر دیا۔اور اس طرح امت مسلمہ کو ایک سبق دیا کہ دیکھو تمہارے آباء میں، پھر ان کی نسل میں ایک بیج بویا گیا تھا۔ایسا وقت آگیا ہے کہ یہ بیج ایک درخت کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہو اور ساری دنیا اس کے سایہ تلے آرام حاصل کرے۔چنانچہ وہی نمونہ جو اس وادی غیر ذی ذرع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان نے دنیا کو دکھایا تھا۔آنحضرت صلی اللہ 56