تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 55
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 102 اپریل 1966 ء ہر احمدی کو وقف کا وہی نمونہ دکھانا چاہیے، جو صحابہ کرام نے دکھایا تھا خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 02 اپریل 1966ء خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: وو یہ عید جو آج ہم منارہے ہیں، عید الاضحیہ کہلاتی ہے۔صرف اس لئے نہیں کہ آج کے روز بکروں، بھیڑوں، دنبوں، گائے اور اونٹ کی قربانی کی جاتی ہے بلکہ زیادہ تر اس لئے کہ یہ عید ایک اسوہ حسنہ کو دوام بخشنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔اور وہ اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے خاندان کا ہے۔جو انہوں نے کئی ہزار سال پہلے دنیا کے سامنے رکھا اور اسے دنیا میں قائم کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک مشرک قوم میں پیدا ہوئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت آپ کے دل میں پیدا کر دی، اس لئے آپ شرک سے کلیہ بیزار ہو کر تو حید پر قائم ہو گئے تھے۔اپنی قوم کو بھی تو حید کی طرف بلاتے تھے۔گو قوم آپ کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتی تھی۔آپ کے دل میں بڑی شدید خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نیک اور صالح اولا د عطا کرے تا اس کے ذریعہ توحید پر قائم رہنے والی ایک جماعت قائم ہو جائے۔آپ نے اس کے لئے بہت دعا کی۔مگر ایک لمبے عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو قبول نہیں کیا۔بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ پچاس سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ تک آپ عاجزی اور انکساری کے ساتھ خدا کے حضور جھکتے رہے اور نیک اور صالح اور تو حید پر قائم رہنے والی نسل کے لئے دعا کرتے رہے لیکن اتنے لمبے عرصہ تک ان دعاؤں کا بظاہر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔آخر آپ کی عمر 6 8 برس کی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو قبول کیا۔اور آپ کے ہاں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔آپ کی دعا یہی تھی کہ آپ کو ایسے بچے عطا ہوں ، جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے اسی طرح اپنی گرد نہیں رکھ دیں، جس طرح باقی جانوروں کی گردنیں چھری کے نیچے رکھی جاتی ہیں۔اور چونکہ آپ اپنے عہد میں پختہ اور اپنی نیت میں مخلص تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ایک نمونہ قائم کرنا چاہا۔بڑھاپے کی عمر (86 سال کی عمر ) میں آپ کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا۔جس غرض کے لئے اس بچہ کی خواہش کی گئی تھی، اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھولے نہیں تھے۔بلکہ پہلے دن 55