تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 691 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 691

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اکتوبر 1970ء تعداد کو با برکت تعدا د بنادے۔در اصل تعداد بھی کوئی چیز نہیں، پیسہ بھی کوئی چیز نہیں ، اللہ کی برکت چاہیئے۔پھر کام ہوتے ہیں۔اسی طرح باہر کی جماعتوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔مثلاً (حالیہ سفر افریقہ و یورپ میں ) میں لنڈن میں ٹھہرا تو انگلستان کی جماعتوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔وہاں ڈنمارک کے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔ڈنمارک بعد کا مشن ہے۔یہ نوجوان مشن ہے۔میرا خیال ہے کہ یہ مشن اس چندہ میں یورپ میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔دو ہزار پاؤنڈ تک ان کا چندہ پہنچ گیا ہے۔ان کی تعداد کے لحاظ سے ) تربیت کے لئے زمانہ لازم ہے۔تربیت زمانہ کا مطالبہ کرتی ہے۔زمانہ گذرنے پر آہستہ آہستہ تربیت پختہ ہوتی ہے۔یہی خدا کا اصول ہے۔ڈنمارک ایک نیا اور نو جوان مشن ہے، وہ دوسروں سے آگے نکل گیا ہے۔اب انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ دوسرے ملکوں کو بھی غیرت آئے گی۔آج بھی مجھے خط ملا ہے کہ ہمیں پتہ نہیں کہ یہ تحریک (نصرت جہاں ریز روفنڈ کی ) ہمارے ملک کے لئے بھی ہے یا نہیں ؟ خود تو ہم فیصلہ کر نہیں سکتے۔اس کے متعلق ہمیں بتایا جائے۔اب تو یہ تحریک عالمگیر بن گئی ہے۔ایسے ممالک سے مجھے امید ہے کہ باہر والے بیس لاکھ روپیہ ادا کر دیں گے۔ان کے متعلق تو مجھے امید ہے لیکن پاکستان کے متعلق مجھے یقین ہے کہ یہ پینتالیس لاکھ سے زیادہ رقم دے سکتے ہیں۔اگر نہ دیں تو ان کی سنتی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے فضل کی کمی اس کا نتیجہ نہ بھی جائے گی۔تو مستیاں دور کرو، باسٹھ لاکھ (کم از کم ) دے دینا چاہئے۔باقی ہمارا قدم تو آگے ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ جو کچھ اس نے قبول کر لیا ہے، اگر ہم زندگی بھر الحمد للہ پڑھتے رہیں تو اس کی قبولیت کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ایبٹ آباد میں ہمارے بچوں کو پتہ لگا کہ ایک دوست کے پاس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی 1955ء کی تقریر ریکارڈ کی ہوئی ہے، وہ اسے لے آئے۔میں نے بھی سنی۔ساری رات سوچتارہا اور الحمد للہ بھی پڑھتارہا۔خدا کی شان دیکھو کہ 1955ء میں ایک غیر ملکی مہم کے لئے (باہرکسی ملک میں کوئی کام تھا) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ساری جماعت سے پینتیس ہزار روپیہ جمع کرنے کی تحریک کی۔اور یہ کہا کہ اگر جماعت پینتیس ہزار روپیہ مجھے دے دے گی تو یہ کام ہو جائے گا۔اب پاکستان میں بھی بہت سارے دوست ہیں، انگلستان کے دو دوستوں کے چندے اتنے ہیں کہ جن کی مقدار پینتالیس ہزار بنتی ہے۔اور وہ دو دوست ایسے ہیں، جو دے چکے ہیں۔میں ایسے دو کے متعلق بتارہا ہوں ، ان کا نام نہیں لے رہا کہ جنہوں نے نقد دے دیا۔ایک نے پورے کا پورا اور ایک نے اپنے وعدہ کا پانچواں حصہ دے دیا۔اور یہ رقم بنتی ہے (ایک کا پانچواں حصہ اور دوسرے کا پورا ادا کر دینے کے بعد ) پینتالیس ہزار 691