تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 690 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 690

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اخلاص سے وعدے کیے ہیں۔ان اڑھائی ہزار میں سے ( میرا خیال ہے) کئی سو ایسے ہیں، جو پانچ ، پانچ سوروپے سے بڑھ کر دو ہزار تک آجائیں گے۔یعنی وہ ( دو ہزار فی کس تک ) آسکتے ہیں۔جس دن بھی میں نے ان کو توجہ دلائی ، وہ انشاء اللہ تعالیٰ اس صف میں آجائیں گے۔اور پندرہ ، نہیں آدمی (جن کو اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہوئی ہے) تھیں، چالیس، پچاس ہزار دینے کی، وہ بھی پانچ ہزار پر آ کر ٹھہر گئے ہیں۔پستہ نہیں کیوں؟ شاید ان کو سحر کے حکم کے مطابق یاد دھانی نہیں کرائی گئی۔لیکن میں ان کو چھوڑتا ہوں۔چندہ دینے والے کی نسبت یہ فکر تو ہوتی ہے کہ وہ پیچھے نہ رہ جائے لیکن یہ مجھے فکر نہیں ہے کہ اگر پیسے یہی ہیں تو زیادہ کہاں سے آئیں گے؟ مجھے پیسے آپ نے نہیں دینے کیونکہ آپ نے مجھے خلیفہ نہیں بنایا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور وہ مجھے پیسے دیتا ہے، اپنے کاموں کے لئے اور وہ دے گا۔اس لئے اس کی تو مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔لیکن اس شخص کے متعلق فکر ہو جاتی ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے زیادہ دینے کی توفیق دی تھی ، وہ پیچھے کیوں رہ رہا ہے؟ اور تئیس سوایسے ہیں، جنہوں نے پانچ سو کا وعدہ کیا ہے اور وہ روزانہ بہت بڑھ ر ہے ہیں۔آج کی رپورٹ میں بھی شاید دس پندرہ ہیں، جو پانچ، پانچ سو کا وعدہ کرنے والے ہیں۔ابھی تو بعض پہلو ایسے ہیں، جن کا میں نے اظہار نہیں کیا۔بعض جماعتیں اور بعض علاقے ایسے ہیں، جن کو میں نے ابھی توجہ نہیں دلائی۔مثلاً زمیندار ہیں۔جب ان کی خریف کی فصل ان کے گھروں میں آ جائے گی ، پھر ربیع کی فصل بھی آجائے گی تو ان میں سے بہت سارے ( اس تحریک میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ویسے بھی زمیندار میں کچھ پچکچاہٹ ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔کیونکہ فصل جب تک گھر نہ آجائے، اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ہزار ہا آزمائشیں رکھتا ہے۔میں بھی خاموش ہوں اور وہ بھی خاموش ہیں۔میں خاموش بھی ہوں اور دعا بھی کر رہا ہوں۔کاش! میرے زمیندار بھائی جو ہیں، وہ خاموش بھی رہیں اور دعا بھی کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی فصلوں میں برکت ڈالے۔پھر ان کو تو فیق بھی دے کہ اس کی راہ میں پھر قربانیاں دیں اور انشاء اللہ اب مجھے امید ہے کہ یہ تعداد بھی پانچ ہزار تک پہنچ جائے گی۔اس وقت تک کوئی ستائیس اٹھائیس سو تک ہے۔کوشش تو زیادہ کی ہے۔جو پانچ سو سے کم چندہ دینے والے ہیں، وہ تو کسی شمار میں نہیں آتے۔ہمارے شمار میں نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ کے شمار میں تو ہیں۔وہ بھی اگر ملائے جائیں تو چندہ دینے والے بھی شاید پانچ ہزار تک پہنچ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کو سامنے رکھ کر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ باسٹھ لاکھ (کم از کم ) روپیہ دینے والوں کی تعداد پانچ ہزار کی ہو جائے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس 690