تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 684 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 684

خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم Source of information یعنی ذریعہ خبر ابھی تک ایک ہے، پہلے تو بہت سارے ذرائع سے علم ہوتا رہتا ہے۔انشاء اللہ پتہ لگ جائے گا کہ یہ بات کہاں تک درست ہے؟ بہر حال بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ افریقہ میں جماعت احمد یہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، اس لئے پاکستان میں ان کو کچلو۔تا کہ ان کے جو وہاں پروگرام ہیں، ان کے اوپر اثر پڑے۔جماعت احمدیہ کو کچلنے کی طاقت تو اللہ تعالٰی نے کسی کو نہیں دی۔لیکن اس نے حسد کرنے کا اختیار سب کو دیا ہے۔ویسے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا کہ یہ تمہاری اپنی مرضی ہے کہ رشک کر دیا حسد کرو۔یعنی جب اللہ تعالیٰ کے فضل کسی پر نازل ہوں تو ایک ذہنیت یہ پیدا ہوتی ہے کہ خدا کا بندہ کہتا ہے کہ میرے بھائی نے خلوص نیت کے ساتھ اپنے رب کے حضور اپنا سب کچھ دے دیا اور اس کے فضلوں کو حاصل کیا اور ان فضلوں کے حصول کا یہ دروازہ میرے لئے بھی کھلا ہے۔تو جس طرح میرے بھائی نے ایثار اور قربانی اور اخلاص کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت کو حاصل کیا، میں بھی حاصل کروں گا۔اور کوشش یہ کروں گا، میں اس سے بھی زیادہ الہی فضلوں کا وارث بنوں۔اس کو رشک کہتے ہیں۔لیکن ایک اور آدمی اگر اس کا ذہن صحیح راستے سے بھٹک جائے تو وہ یوں سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اس بھائی پر فضل کیا اور مجھے یہ برداشت نہیں۔میں یہ کوشش کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے جس حد تک اس سے چھین سکوں ، وہ میں چھین لوں اور اس کو نقصان پہنچاؤں۔اب ظاہر ہے کہ کسی انسان یا کسی مخلوق کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے کوئی فضل چھین لے۔دینے والا جب اللہ تعالیٰ ہو اور وصول کرنے والا اس کا ایک بے نفس بندہ ہو تو پھر اس کے فضل تو نہیں چھینے جاسکتے۔لیکن ایسا شخص یا ایسا گروہ یا ایسی جماعت یا ایسا فرقہ یا ایسی تنظیم اپنی گمراہی اور اپنی تباہی کا سامان پیدا کر لیتی ہے۔اسی طرح ایک اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والی جماعت ہے، جس کے متعلق یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ یہ منصوبہ بنا رہے تھے کہ ساری جماعت سے ہم نے کہاں لڑنا ہے؟ جو اس وقت اس کا امام ہے، اسے (معاذ اللہ ) قتل کر دیا جائے تو اس طرح ہم اپنے مقصد کو حاصل کر لیں گے۔یہ بھی ایک نادانی ہے۔اس دنیا کی کسی تنظیم کے امام سے جو مرضی کہ لو۔ہمارے لئے یہ خلافت کا سلسلہ ہے اور جماعت احمدیہ کا امام اس کا خلیفہ وقت ہے۔لیکن جو بھی کہ لو، اس نے قیامت تک تو زندہ نہیں رہنا۔اور جب تک اس شخص کی جان لینے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا نشانہ ہو، دنیا کی کوئی طاقت اس کی جان نہیں لے سکتی۔جب خدا تعالیٰ 684