تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 676 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 676

خطبہ جمعہ فرمود 04 ستمبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہے کہ مسلمانانِ روئے زمین عَلی دِین واحد جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہو گا، جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه 490) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ ایک عظیم بشارت ہے اور یہ پوری ہو کر رہے گی۔اب یہ جو تفرقہ ہے اور اس تفرقہ کے نتیجہ میں ہمیں جو سوئیاں چھوٹی جاتی ہیں، اس سے زیادہ تو ہمارا کوئی نقصان نہیں کر سکتے۔بہر حال جو سوئیاں چھوٹی جارہی ہیں، وہ تو ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور مستقبل اس حقیقت کو اپنی گود میں لئے دنیا کا مستقبل نہیں بن سکتا کہ یہ تمام فرقے ، جو مختلف راہوں پر چل رہے ہیں ، وہ تمام اسلام کے صحیح حسن کے گرویدہ ہو کر مہدی معہود کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور واقعہ بھی ہوگا اور اس کی ذمہ واری اس امر میں ہے کہ جمع کرو۔پس ہمیں ہر قسم کی قربانی دے کر اس پیشگوئی کو پورا کرنا ہے۔اس واسطے میں اپنی بنگر جنریشن یعنی نئی پود کو یہ بار بار کہہ رہا ہوں کہ کسی کے خلاف تمہارے دل میں غصہ نہیں پیدا ہونا چاہئے۔لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں۔جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مجد د جانتے ہیں، وہ بھی بعض دفعہ اس قسم کی بے ہودہ بات لکھ دیتے ہیں کہ اسے پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مثلاً پیغام صلح میں خاندان خلافت کی عورتوں پر ایسی خبیثا نہ چوٹ کی ہے، جو محض بکواس ہے، جسے انسان برداشت نہیں کر سکتا لیکن ہمیں غصہ نہیں آنا چاہئے۔ہم نے انہیں بھی کھینچ کر اپنی طرف لانا ہے اور بھینچ کر لارہے ہیں۔جو غیر احمدی ہیں، انہیں بھی ہم نے کھینچ کر لانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیار کے لئے پیدا کیا ہے۔اور ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تم تمام مسلمان فرقوں کو حضرت مہدی معہود کے جھنڈے تلے جمع کر کے علی دِینِ وَاحِدٌ لاؤ۔سارے تفرقے مٹ جائیں گے۔باقی انسان انسان کی طبیعت اور مزاج اور قوتوں میں فرق ہوتا ہے، اس کے نتیجہ میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔یہ اپنی جگہ درست ہے۔لیکن ایسا اختلاف قابل اعتناء نہیں ہوتا۔بلکہ اگر عقلمندی سے ایسے اختلافات سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ “ کا مصداق بن جاتے ہیں۔لیکن یہ سارے فرقے مٹ جائیں گے اور یہ بریلوی، دیوبندی اور دوسرے جھگڑے مٹ جائیں گے اور یہ جو انہوں نے آپس میں کفر بازی شروع کی ہوئی ہے، جسے یہاں دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ویسے ہم نے ضرورت کے لئے ان کے ایک وو 676