تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 675 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 675

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 04 ستمبر 1970ء اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند میں تیرے ساتھ ہوں۔جس طرح میں تیرے باپ کے ساتھ تھا۔ورنہ ابن کہنے کی ضرورت نہیں۔اس وجہ سے میں یہ ترجمہ کر رہا ہوں۔پھر فرمایا:۔سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں، جمع کرو۔عَلَی دِینِ وَاحِدٍ " " ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه 490) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس الہام پر ایک لطیف علمی نوٹ تحریر فرمایا ہے کہ احکام البی دو قسموں کے ہوتے ہیں۔ایک کا تعلق شریعت سے ہوتا ہے، مثلاً نماز پڑھو، خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاؤ، زکوۃ دو، روزے رکھو وغیرہ۔یہ سارے احکام شریعت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔اور اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس حکم کے باوجود سب لوگ اس پر عمل بھی کریں گے۔بلکہ شریعت سے تعلق رکھنے والے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ ایسا بھی ہوگا، جو ان پر عمل نہیں کرے گا۔اس واسطے انہیں پہلے ہی جھنجھوڑا ہے کہ تمہیں عمل کرنا چاہئے۔اور ایک اشارہ یہ آ گیا کہ بہر حال وہ شریعت سے تعلق رکھنے والے ہیں اور انسان کو یہ آزادی ہے کہ چاہے تو ان پر عمل کرے اور چاہے تو نہ کرے۔لیکن ان کے علاوہ ایک خونی اوامر ہوتے ہیں، جن کا شحن " کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔یعنی تقدیر کے ساتھ اور وہ ضرور ہو جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین میں ہیں، جمع کرو۔عَلى دِينِ واحِدٍ، یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں، جیسے نماز پڑھو، زکوۃ دو، خون نہ کر دوغیرہ۔اس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض ایسے بھی ہوں گے، جو اس کی خلاف ورزی کریں گے۔جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو حرف مبدل نہ کرنا۔یہ بتا تا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔دوسرا امر کونی ہوتا ہے۔اور یہ احکام اور امر قضا و قدر کے رنگ میں ہوتے ہیں، جیسے قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرُ دَاوَّ سَلَامًا ( برد اور سلام ہو تو یہ شرعی حکم نہیں تھا، آگ ٹھنڈی ہو گئی ، اس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔اور وہ پورے طور پر وقوع میں آ گیا اور یہ امر، جو میرے اس الہام میں ہے، یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا 675