تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 671 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 671

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 04 ستمبر 1970ء ہماری جماعت میں ان بشارتوں پر یہ انتہائی یقین پیدا ہونا چاہئے۔بہتوں کو ہے۔جوست ہیں، انہیں اپنی مستیاں دور کرنی چاہئیں۔کتنے عظیم وعدے ہیں ، ہمارے ساتھ اور پھر وعدے دینے والا عظیم قدرتوں کا مالک ہے ، عزت کا سر چشمہ بھی وہی ہے، اسی کے ہاتھ میں اقتدار اور دنیوی وجاہت اور طاقت ہے۔جو اسی سے حاصل ہو سکتی ہے۔باقی تو اس دنیا میں عارضی چیزیں ہیں۔آج جو پریذیڈنٹ بن جاتا ہے، کل وہی شخص قوم سے گالیاں کھا رہا ہوتا ہے۔اس دنیا کی عزت کی پائیداری ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ساری انسانی تاریخ میں دیکھ لیں کہیں بھی دنیوی عزت ہمیں پائیدار نظر نہیں آتی۔بڑے بڑے لوگ ہوئے، مثلاً ہٹلر جیسا آدمی، جس کے نام سے دنیا کانپ اٹھتی تھی ، وہ کہاں گیا ؟ اب بھی میں وہاں گیا ہوں، اس زمانے میں بھی جایا کرتا تھا، اس کے ساتھ لوگوں کی محبت کے نظارے بھی میں نے دیکھے ہیں۔ایک دفعہ ہم ایک پرانے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے، اتفاقا ہٹلر بھی اپنی پارٹی کے بعض لوگوں کے ساتھ وہیں ایک کونے میں بیٹھا تھا۔وہاں عموما یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی میز کے ارد گرد کوئی کرسی خالی پڑی ہو تو جان پہچان نہ ہونے کے باوجود اس پر کوئی اور آدمی آکر بیٹھ جاتا ہے۔ہماری میز پر ایک عورت آکر بیٹھی ، جسے ہٹلر سے اس طرح کا پیار تھا، جس طرح واقعی ابناء سے پیار ہوتا ہے۔وہ کہنے لگی ، ہمارا تو دل کرتا ہے کہ دشمن ہماری بوٹی بوٹی نوچ کر لے جائے مگر ہٹلر کو کچھ نہ ہو۔پس اس کے لئے قوم کا وہ پیار بھی دیکھا اور اب جب ہم گئے ہیں تو اسی قوم کا ہٹلر کو گالیاں دیتے بھی سنا۔غرض دنیا کی عزتیں تو آنی جانی چیزیں ہیں۔لیکن اللہ تعالٰی ، جو حقیقی عزت کا سر چشمہ ہے، جب اس کی نگاہ میں انسان اس کا پیار دیکھ لیتا ہے اور پھر اگر یہ ٹھیک رہے تو اسے ہمیشہ پیار ملتا رہتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور ابد الآباد تک۔یعنی آخری دنیا میں بھی۔اس دنیا میں ڈھکے چھپے پیار کے نظارے ہوتے ہیں۔کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ یہ مادی دنیا ہے۔میں نے یہاں پردہ ڈالا ہوا ہے۔لیکن انسان کو اس زندگی کے بعد جو پیار نظر آئے گا ، وہ تو اللہ تعالٰی کے پیار کو بھی سمجھے گا کہ مجھے وہاں تھوڑا سا ملا تھا اور میں بہت کچھ سمجھا۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کے اصل نظارے تو اب دیکھ رہا ہوں۔پس ہمیں جو وعدے دیئے گئے ہیں، وہ ہمارے سامنے آتے رہنے چاہئیں۔اور جوان وعدوں اور بشارتوں کے تقاضے ہیں، وہ ہمیں پورے کرنے چاہئیں۔اس واسطے آج میں یہ نئی طرز کا خطبہ دینے لگا ہوں کہ چند حوالے پڑھ دوں گا اور ان پر کوئی رائے نہیں دوں گا۔آپ غور سے سنیں اور سوچیں کہ ایک ، ایک عبارت میں ہیں، ہمیں ایسے وعدے ہیں، جو بڑے عظیم ہیں۔ہر وعدہ جو ہے، ہر بشارت جو ہے، وہ ہم پر ایک عظیم ذمہ واری ڈالتی چلی جاتی ہے۔آپ ہی کے کچھ تو بچے ہیں، ان کو تو کسی اور وقت تفصیل سے 671