تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 670
خطبہ جمعہ فرمود 04 ستمبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اور اللہ تعالی قادر توانا اور متصرف بالا رادہ ہے۔وہ آسمان سے صرف حکم دے کر ان سلطنتوں کو پاش پاش اور ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ حکم دے گا اور یہ سلطنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور اسلام غالب آ جائے گا، ہم آرام سے گھروں میں بیٹھے رہیں گے۔وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بشارت کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے۔اور جتنی عظیم بشارت ہو، اتنی ہی عظیم ذمہ داری اور اتنی ہی انتہائی قربانی دینی پڑتی ہے۔اور ایثار پیشہ اور فدائی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔چنانچہ انسان یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے کیسی عظیم الشان قربانیاں دیں۔یہ ایک ایسی تربیت یافتہ قوم تھی، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لمبی تربیت حاصل کی تھی۔ان کی تعداد بمشکل آٹھ ، دس ہزار تھی۔اور یہی وہ لوگ تھے، جن کی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں سے کام لیا۔کیونکہ یہ تدبیر کی دنیا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ کے ارادے باکل ظاہر ہو کر سامنے نہیں آیا کرتے۔ورنہ تو پھر دوسری زندگی یعنی جنت اور دوزخ کا جو ثواب ہے، وہ رہے ہی نہ۔جب اللہ تعالیٰ ” شحن “ کہہ کر بارش برسا دیتا ہے۔اگر اسی طرح اس نے ” مسکن “ کہہ کر انسان کے دل میں اپنی محبت پیدا کر دینی ہوتی اور انسان کو کچھ نہ کرنا پڑتا تو پھر جو بارش برسنے کی جزا با دل کو مل سکتی ہے، وہی انسان کو ملتی۔اس سے زیادہ کا تو وہ حق دار نہ بنتا۔لیکن بادل کو تو کوئی جز انہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا ہے کہ جو میں کہوں گا ، وہ تم کرو گے اور بس۔اس کے بعد اس کی نہ کوئی اور زندگی اور نہ کسی اور شکل میں جزا ہے۔انسان کو کہا، جو میں کہتا ہوں تم کو کرنا پڑے گا۔اور اگر تم کرو گے تو جو تھوڑی سی آزادی میں نے تمہیں ایک خاص ماحول میں دے رکھی ہے، اس میں تم میری جزا کو حاصل کرو گے۔اس جزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے ، اس کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک عقل مند ، معرفت رکھنے والا انسان اس کی راہ میں اس دنیا کی محبتوں اور حقیر ، بے معنی اور بے وزن چیزوں کو یوں قربان کر دیتا ہے کہ واقعہ میں دنیا بجھتی ہے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔اسی لئے لوگ مجنون کہا کرتے تھے۔کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا کی چیزوں کی کوئی قیمت بھی ہے یا نہیں؟ انسانی جان کی کوئی قیمت بھی ہے یا نہیں؟ انسان کو بچوں سے پیار بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ ان کا عمل بھی یہی ثابت کرتا ہے۔جولوگ مدینہ سے سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے ، مہاجر بھی، جنہوں نے مدینہ کو اپنا دوسرا گھر بنایا تھا اور انصار بھی، جو وہاں کے رہنے والے تھے، سالوں دور رہتے تھے۔انہوں نے تو کبھی اپنے بچوں کا خیال نہیں کیا، نہ انہوں نے اپنے خاندانی حالات کی پرواہ کی۔انہیں ایک ہی خیال تھا اور ایک ہی دھن تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول تھا۔670