تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 666
اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تغیر دیکھا ہے۔ان کا رنگ نظر نہیں آتا ، ان کے دل کا نور نظر آرہا ہوتا ہے۔انہیں دیکھ کر یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کالے رنگ کی طرف منسوب ہونے والی قوم ہے۔وہ بڑی محنت کے ساتھ پڑھائی بھی کرتے ہیں اور بڑے اخلاص کے ساتھ جماعتی کام بھی کرتے ہیں۔ہمارے پاکستانی بعض دفعہ اچھا نمونہ نہیں دکھاتے۔بہت کمزوریاں دکھا جاتے ہیں۔لیکن جو افریقہ سے آتے ہیں، ان کا نمونہ بہت اچھا ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں نوجوانوں کی فکر کرنی چاہیے، انہیں سنبھالنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، آپ زیادہ سے زیادہ وقف کر دیں۔ہم چھان بین کرلیں گے، حالات دیکھیں گے۔اور جوں جوں ضرورت پڑی یا جوں جوں ضرورت بڑھتی چلی جائے گی، انہیں بلا لیا جائے گا۔وہاں کی ڈاک کا انتظام بھی خاطر خواہ اور تسلی بخش نہیں ہے۔مجھے کئی دوستوں نے افریقہ میں خط لکھے، جو کئی کئی مہینوں کے بعد یہاں واپس آکر ملے ہیں۔25 دن میں وہاں نہیں پہنچے۔اور بعض دفعہ پانچویں، ساتویں دن خط وہاں پہنچ جاتا ہے۔پتہ نہیں ڈاک کا کیا حساب ہے؟ اگر دو دفعہ بھی غیر ملکی حکومتوں سے اس سلسلہ میں خط و کتابت کرنی پڑے تو وہ تین مہینے ہم لیٹ ہو جاتے ہیں۔پھر منظوریاں لینی ہوتی ہیں۔اس لئے جو بھی وقف کریں خواہ چھ سال کے لئے یا استثنائی صورت میں 3 سال کے لئے یا ساری عمر کے لئے وقف کریں، سب کے فارم جمعہ نقول سرٹیفکیٹ آجانے چاہئیں۔اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری کی فوٹوسٹیٹ کا پی ضرور آنی چاہئے۔ایک تو ابھی سے ORIGINAL ڈگریاں سنبھال کر رکھیں اور اگر گم ہو چکی ہو تو ان کی DUPLICATE کا پیاں حاصل کر لیں۔کرنل یوسف صاحب مرحوم کے بارہ میں بھی کچھ دقت پیش آئی تھی۔لیکن چونکہ ان کا ساری عمر کا تجربہ تھا، اس لئے انہیں اجازت مل گئی تھی۔حکومت ان معاملات میں بڑی سخت ہے۔اور ہونی بھی چاہئے۔میں خوش ہوں ، وہ رعایت نہیں کرتے۔جو ملکی قانون ہے، اس کی وہ بہر حال پابندی کرتے ہیں۔اور سرٹیفکیٹ وغیرہ دیکھ کر پوری تسلی کرنے کے بعد اجازت دیتے ہیں۔یہ تو اس لحاظ سے بھی اچھا ہے کہ اس سے ہمارے ملک کو سبق لینا چاہئے کہ قانون کی پابندی ضروری ہے۔شروع میں میرا خیال تھا کہ شاید دقت پیدا ہو۔لیکن اب ایسا کوئی خدشہ نہیں ہے۔غانا نے شروع میں ایک ڈاکٹر کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔انہوں نے ہمارے مبلغوں کے کوٹے میں سے پرمٹ دے رکھا تھا۔میں اس طریق سے متفق نہیں تھا۔میں نے وہاں کی جماعت سے کہا کہ یہ تم ظلم کر رہے ہو۔میری ہدایت کے خلاف تم نے مبلغوں کے کوٹے میں سے نئے ڈاکٹر کے لئے پر مت لے لیا ہے۔چنانچہ جب میں نے انہیں سختی سے منع کیا تو وہ متعلقہ وزیر سے ملے، وہ مان گیا اور اس نے پہلی منظوری منسوخ کر کے ڈاکٹر کا الگ پرمٹ جاری کیا۔666