تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 663
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء کا مطلب آج سمجھ آ گیا ہے۔آپ ہی بندر بن گئے ہو اور حیوانوں کی طرح زندگی گزارنے کے آپ ہی مصداق بن گئے ہو۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔مجھے ان سے ہمدردی ہے۔انسان کی زندگی کا حقیقی مزہ اور مسرت ان کو نہیں مل رہی۔لیکن یہ بات ماننی پڑے گی کہ رپورٹنگ میں وہ بڑے دیانت دار ہیں۔وہ ساری بات شائع کر دیتے ہیں۔مگر ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی صحافی ترک وطن کے مسئلہ پر لال پیلے ہورہے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ انگریزوں کا ملک ہے، اگر یہ تمہیں یہاں نہیں رکھنا چاہتے تو تم یہاں سے چلے جاؤ۔ویسے میں نے انہیں اصول بتایا کہ If you win their hearts they are not going to turn you out, if don't, you have got no right to stay here۔اس کے اوپر ہی انہیں غصہ چڑھ گیا تھا۔اور پھر ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی صحافی نے جب ان کا غصہ دیکھا تو ان کا غصہ نرم کرنے کے لئے مجھ سے کہنے لگا کہ روڈ یشیا اور سوڈ تھ افریقہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے اس سے کہا کہ جس طرح یہ ملک انگریزوں کا ہے، اسی طرح وہ ملک افریقنوں کا ہے۔اور جب بھی اللہ تعالیٰ انہیں طاقت دے ( اور میں امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ ان سفید فام لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئیں گے۔یہ بھی دراصل سفید فام کو چھیڑ لگانے کے مترادف تھا۔مگر یہ بھی انہوں نے اپنی اخباروں میں دے دیا۔" ( مطبوعه روزنامه الفضل 120اپریل 1972ء) ہ یہ آپ اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ساری دنیا کو بحیثیت انسان، انسان سے محبت کا سبق دینا، جماعت احمدیہ کا کام ہے۔کوئی اور دے بھی نہیں سکتا اور نہ ان کی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا فضل ہے۔اب میں مغربی افریقہ میں گیا ہوں۔مجھے ایک لحظہ کے لئے بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں اپنے گھر سے دور ہوں۔بلکہ بعض دفعہ یہ احساس پیدا ہوتا تھا کہ گھر میں مجھے اتنی محبت نہیں ملتی تھی، جتنی یہ لوگ دے رہے ہیں۔وہ عجیب قوم ہے۔مجھ سے مصافحہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے اور بغیر کچھ کہے یا بات کئے کھڑے ہیں اور منہ تکے جارہے ہیں۔میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے حجاب کی وجہ سے منہ نیچے کر لیتا تھا اور گردن جھکا لیتا تھا۔وہ میرا ہاتھ نہیں چھوڑتے تھے۔پیچھے سے دوسرا افریقن اسے ٹھونگے لگا رہا ہوتا تھا کہ چھوڑ دو، میری باری ہے۔لیکن وہ کھڑے ہیں۔ابادان میں Actualy یہ ہوا کہ ایک آدمی نے مصافحہ کیا اور ہاتھ چھوڑ نہیں رہا تھا۔دوسرے نے زور سے اس کا 663