تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 662 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 662

اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یہاں میرے پاس کئی نوجوان آجاتے ہیں اور بڑے غصے میں ہوتے ہیں کہ ان کے گاؤں کا مولوی لاؤڈ سپیکر پر انہیں بے نقط گالیاں دیتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں کا ایک احمدی نوجوان ملنے آیا۔وہ بڑے غصے میں تھا، نیوڑی اس کی چڑھی ہوئی تھی اور آنکھیں لال پیلی۔کہنے لگا کہ میرے گاؤں کا ایک مولوی روزانہ زور زور سے گالیاں دیتا ہے۔میں اس کی ساری سرگزشت سنتا رہا۔جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے اسے کہا کہ اپنے گاؤں کے مولوی سے جا کر کہو کہ جتنا زور چاہوں گا لو تم ہمارے دل میں اپنے لئے نفرت نہیں پیدا کر سکتے۔ہم تو انسان سے محبت کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔اور اس معاملہ میں آج نہیں تو کل تمہیں اس کا قائل ہونا پڑے گا۔تم بچ کر نہیں جاسکتے۔محبت کی تلوار ایک ایسی تلوار ہے، جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔پس یہ ہمارا مقام ہے اور یہ ہماری تعلیم۔افریقہ میں طبی امداد بہم پہنچانا، اس تعلیم اور جذبے کا ایک معمولی سا اظہار ہے۔اس لئے مجھے جتنے آدمی چاہئیں، وہ مجھے رضا کارانہ طور پرپل جانے چاہئیں۔ور نہ پھر میں حکم دوں گا اور آپ کو ماننا پڑے گا۔وہ بھی رضا کارانہ ہی ہے۔کئی تو میرے ذہن میں تھے، ان سے میں نے کہا بھی ہے کہ وقف کر دو۔مثلاً ڈاکٹر انوار ہیں، وہ بالکل نوجوان ہیں۔انہوں نے بڑی اچھی مثال پیش کی ہے۔غالباً دو، تین سال پہلے انہوں نے ڈاکٹری کی ڈگری لی ہے۔یہ ہمارے خان شمس الدین خان صاحب پشاور کے صاحبزادے ہیں اور آج کل ڈاڈر میں لگے ہوئے ہیں۔کیونکہ انہوں نے ٹی بی کی ٹریننگ لی ہوئی ہے۔ان سے میں نے کہا کہ مجھے ایک ٹی بی سپیشلسٹ چاہئے ہم تجربہ حاصل کرو اور وقف کر دو۔چنانچہ اس نے اس وقت میرے سامنے کسی قسم کا اظہار نہیں کیا۔میری بات سنی اور چلا گیا۔بعد میں مجھے دفتر نے بتایا کہ اس نے خط لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔ویسے اس قسم کے مخلص نوجوان ڈاکٹر ہوں ، جو وصیت کریں اور ڈاڑھی وغیرہ رکھ لیں تو ٹھیک ہے۔ویسے صرف داڑھی رکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ اب تو ہمپیز نے ڈاڑھی رکھنا شروع کر دیا ہے۔میں ان کی تنظیم کی پیروی کرتے ہوئے ، یہ نہیں کہوں گا کہ عورتوں کی طرح بال رکھ لو یا بندریوں کی طرح گھگھری پہن لو۔وہاں ٹریفگر سکوائر لندن میں 67ء میں بھی اور اب بھی میں نے دیکھا ہے کہ جس طرح بندر نچانے والا بندر یا کوھنگھری پہناتا ہے، بلا مبالغہ لڑ کے اس قسم کی گھنگھری پہنے ہوئے گھڑے ہیں۔میں نے دل میں کہا، تمہیں قِرَدَةً خَسِينَ 662