تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 661 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 661

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء دیا کہ ہم عیسائیت پر مطمئن ہیں، اس لئے ہم اپنا مذ ہب کیوں بدلیں؟ بلکہ ہر ایک نے مجھے یہی جواب دیا کہ ٹھیک ہے، ہم کتابیں پڑھیں گے ، اگر صداقت نظر آگئی تو مان لیں گے۔بو میں ریڈیو کی نمائندہ ایک خاتون تھی ، جو ہمارے ساتھ لگی ہوئی تھی۔اس کا باپ کسی زمانہ میں عیسائی ہو گیا تھا۔البتہ اس کے دو تین چا مسلمان تھے۔وہ منصورہ بیگم سے بڑا تعلق رکھتی تھی اور باتیں کیا کرتی تھی۔چنانچہ منصورہ بیگم کے کہنے پر کہ اسے تبلیغ کرنی چاہیے۔میں نے اسے بیعت فارم دیا اور کہا کہ میں یہ فارم تمہیں اس لئے نہیں دے رہا کہ تم بیعت کے لئے دستخط کر دو بلکہ میں تمہیں اس لئے دے رہا ہوں کہ اس میں بہت ساری شرائط لکھی ہوئی ہیں ، اس سے تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ ہمارے عقائد کیا ہیں؟ ساتھ ہی میں تمہیں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہماری کتابیں پڑھو، پھر اگر اسلام کا نور نظر آئے تو اسے قبول کرنے میں اپنے باپ سے نہ ڈرنا۔پھر مسلمان ہو جانا۔چنانچہ وہ کہنے لگی، ٹھیک ہے۔چلتے وقت منصورہ بیگم نے بتایا کہ اس نے آٹھ ، دس دفعہ کہا کہ حضرت صاحب کو میرے لئے دعا کے لئے کہتے رہیں۔پس اس لحاظ سے وہ بڑے اچھے ہیں۔لیکن دنیا نے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔پچاس سالہ تو ان کا تجربہ تھا کہ احمدی ہوتے کیسے ہیں؟ اب میں ایک اعلان کر آیا ہوں اور جماعت پر اس کی ذمہ داری ہے۔میں نے وہاں ایک جلسے میں آٹھ ، دس ہزار آدمیوں کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ آج کے بعد دنیا تمہیں حقارت اور نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔اب تمہاری عزت اور تمہارا احترام کیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ ہم افریقن کی عزت اور احترام کو دنیا میں قائم کریں گے۔اب جماعت کا یہ فرض ہے کہ میں نے جو یہ اعلان کیا ہے، اس کے مطابق عملاً یہ ثابت کرے۔اس وقت افریقہ میں ہمارے اور عیسائیت کے درمیان آخری اور زبردست جنگ لڑی جارہی ہے۔اگر ہم افریقہ میں عیسائیت سے یہ جنگ جلدی جیت لیں تو اس کا رد عمل دوسرے ممالک میں بڑاز بردست ہوگا۔اب میرے پانچ ، چھ ہفتہ کے دورے کا رد عمل پاکستان میں تو یہ رونما ہوا کہ جماعت اسلامی جیسی جماعت جو بڑے منظم چھوٹے چھوٹے سیلز پر مشتمل ہے۔اور امیر بھی بہت ہے۔ہم سے ہزار گنا زیادہ امیر ہے۔اسے بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ویسٹ افریقہ میں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن یہ تو ابھی بالکل ابتداء ہے۔ہم نے ساری دنیا سے یہ منوانا ہے۔ہم اس پیغام محبت میں ناکام ہو ہی نہیں سکتے۔میں وہاں یہ اعلان کر آیا ہوں کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے، دنیا میں حقیقی محبت کا پیغام کبھی نا کام نہیں ہوا۔عارضی طور پر ابتلاؤں میں سے ضرور گذرا ہے لیکن نا کام نہیں ہوا۔661